خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 410
خطبات طاہر جلد 15 410 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء سے احمدی کو دیکھتے ہیں ابھی بھی وہ ان سے فرق محسوس کرتے ہیں اور نسبتا ان سے باقی مشرقی مہاجرین کے مقابل پر زیادہ محبت کرتے ہیں۔یہ روزمرہ میرے تجربے میں یہ بات آتی رہتی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے آپ کو بیان کیا ہے اگر آپ اسلامی نمونے کے خدا کے سفیر بن جائیں تو اس طرح آپ ان کے دلوں میں گھر کر جائیں گے کہ ان کے لئے ناممکن ہو گا کہ آپ کے محبت کے پیغام کو رد کر سکیں۔پس اللہ کرے کہ ہمیں اس کی توفیق نصیب ہو۔اب چونکہ دیر زیادہ ہو چکی ہے میں خود دیر سے اس لئے پہنچا ہوں کہ ہماری مجبوری تھی۔سارا راسته السارش ملا ہے کہ اس سے پہلے جو آنا جانا تھا اس میں میں نے کبھی نہیں دیکھا۔چنانچہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے مجھے یقین دلایا کہ پینتالیس منٹ کا رستہ ہے اگر گھنٹہ پہلے بھی چل پڑیں تو آرام سے پہنچ جائیں گے اور وہ پینتالیس منٹ کی بجائے ڈیڑھ گھنٹے کا سفر بن گیا۔پس یہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔یہاں کسی عذر یا بہانے کی بات نہیں واقعہ ایسا ہی ہوا ہے۔تو میں معذرت خواہ ہوں دیر سے شروع کرنے پر لیکن اب مجھے یہاں اس خطاب کو ختم کرنا ہے اس وجہ سے نہیں کہ میں وقت کی کمی کی وجہ سے افراتفری کرنا چاہتا ہوں۔میں نے گھڑی دیکھی ہے تو وقت عین مناسب ہے۔** میں جو کہنا چاہتا تھا وہ میں نے کہہ دیا ہے۔قرآن وحدیث کے حوالے سے کہہ دیا ہے۔اپنے زندگی کے تجربے کے لحاظ سے کہہ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو سننے والے کان عطا کرے۔اذن واعیه عطا کرے۔جو کان سنتے ہیں اور پھر ان حکمت کی باتوں کو خزانہ بنا کر اپنے پاس جمع کر لیتے ہیں۔آئیے اب ہم اس کے بعد افتاحی دعا میں شریک ہو جائیں۔اللہ آپ کا حامی وناصر ہو۔اس اجتماع کے دوران ایک دوسرے سے محبت اور اخلاص کے معاملات کریں۔کسی قسم کی بدمزگی نہیں ہونی چاہئے۔کسی قسم کی بد کلامی نہیں ہونی چاہئے۔احتیاطیں کریں کہ کھیل کے میدانوں میں جہاں تک ممکن ہو احتیاط ہو اور کسی خادم کو چوٹ نہ آ جائے۔اللہ کرے کہ نہایت پاکیزہ ماحول میں آپ ذکر الہی کرتے ہوئے اپنے دلوں کو ذکر الہی سے شاداب رکھتے ہوئے یہ وقت گزاریں۔اللہ آپ سب کا حامی وناصر ہو۔خیریت سے آئے ہیں، خیریت ہی سے واپس لوٹیں۔کسی قسم کی کوئی دیکھ کی خبر نہ ملے۔آمین۔دعا کر لیجئے۔اس موقع پر حضور دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے والے تھے کہ عرض کی گئی کہ جمعہ کا خطبہ ثانیہ ابھی باقی ہے۔اس پر حضور نے فرمایا) میرے ذہن میں اجتماع کا خطاب رفتہ رفتہ غالب آ گیا۔یہ یاد بھی نہیں رہا