خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 35

خطبات طاہر جلد 15 35 خطبہ جمعہ 12 /جنوری 1996ء نہیں چلو گے تو نور کی محبت کے دعوے سب جھوٹے اور فرضی ہیں۔فرمایا یہ ثابت ہوا ہے کہ اگر اللہ کا نور چاہتے ہو تو لازماً پہلے نور بنا ہو گا۔اگر نہیں بنو گے تو تم وہیں کے وہیں پڑے رہ جاؤ گے اور تمہیں نور عطا نہیں ہوگا۔پس جن آیات کی میں نے تلاوت کر کے آخری نتیجہ نکالا تھا یہ بعینہ وہی نتیجہ ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دوسری آیت کے حوالے سے نکال رہے ہیں کہ جب تم محمد رسول اللہ ﷺ کی متابعت کرو گے تو پہلے درجہ بدرجہ نور بنتے چلے جاؤ گے۔جب بنو گے تو پھر اس نور کی پیروی کے مستحق قرار دیئے جاؤ گے جس پر آسمان سے شعلہ نورا ترتا ہے۔یہ اشارہ فرمایا کہ نو روحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے۔تاریکی پر وارد نہیں ہوتا“۔پس جن جن گوشوں میں تم اندھیروں میں جکڑے ہوئے بیٹھے ہو۔اندھیروں میں گھرے ہوئے مقید ہو۔ان گوشوں میں بیٹھے ہوئے تم پر خدا نہیں اترے گا۔ہراس گوشے سے نکلنا ہوگا۔ہر اس قید سے رہائی پانی ہوگی۔مگر خوشخبری یہ ہے کہ اللہ کا نور انتظار نہیں فرمائے گا کہ جب تک تم کامل طور پر ہر کمزوری سے آزاد نہیں ہو جاتے وہ تم پر جلوہ گر نہ ہو۔جس حد تک بھی آزاد ہو گے تم راہ سلام پر چل پڑو گے۔تمہارے وجود کا کوئی حصہ سلامتی کی راہ پر چل رہا ہوگا پھر اور حصے بھی اس کے ساتھ شامل ہوتے چلے جائیں گے اور جن جن راہوں پر تم سلامتی کی راہ اختیار کرو گے وہاں خدا تعالیٰ سے تعلق کے آثار بھی دیکھو گے۔اب یہ وہ مضمون ہے جو ہم پر بہت سی بعض ایسی باتیں کھول دیتا ہے جسے لاعلم نہ سمجھ کر بعض نیک لوگوں پر اعتراض کرتا ہے۔کئی ایسے لوگ دنیا میں دیکھے گئے ہیں کوئی نمازوں میں بہت اچھا ہے کوئی چندوں میں بہت اچھا ہے، کوئی اور بہت سی خوبیاں رکھتا ہے ،غریبوں کا بے حد ہمدرد ہے۔غرضیکہ خوبیاں بہت سی ہیں اور وہ ساری سُبُلَ السَّلمِ ہیں۔یہ نہ بھولیں کہ یہی وہ سلامتی کی راہیں ہیں جن پر محمد رسول اللہ ہے آپ کو نجات لے کر چلاتے ہیں، ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھاتے ہیں اور ان راہوں پر اگر یہ سُبُلَ السَّلم ہیں تو نور کا ایک حصہ تو ضرور وارد ہوتا ہو گا کیونکہ یہ سارے رستے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔یہ سارے رستے قرآن کے بیان کے مطابق نور کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔تو کیا پتہ کہ جس راہ میں جا رہا ہوں وہ نور کی راہ ہے بھی کہ نہیں۔اس دغدغہ کو دور کرنے کے لئے یا جو بھی وہم ہے اس کو دور کرنے کے