خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 403
خطبات طاہر جلد 15 403 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء کی سچائی ایک چادر ہے، جو ہے وہی بچھا دی کہ آؤ اب بیٹھ جائیں۔ٹھنڈا پانی نلکے سے نکال کر پلا دیا۔یہ ان باتوں میں بہت گہری طاقت ہے اس کے مقابل پر کہ آپ کسی کے گھر دوڑے جائیں اور وہاں سے کسی یا چائے مانگ کر لائیں اور مانگے ہوئے برتنوں میں آپ مہمان کی خدمت کر رہے ہوں۔افراتفری گھر میں آئی ہو۔آپ کو وہم ہے کہ مہمان پہچانتا نہیں ہے وہ خوب جانتا ہے، خوب پہچانتا ہے۔سادگی ہے جو دراصل سچائی سے پیدا ہوتی ہے اور سچائی سادگی کو طاقت بخشتی ہے۔جو کچھ ہے، جو کچھ خدا نے آپ کو دیا ہے وہی کچھ پہنے رہیں ، اس سے زیادہ بننے کی کوشش نہ کریں۔ایسے موقعوں پر کتنی مصیبتیں حل ہو جاتی ہیں ، کتنے سمجھٹوں سے آپ کو چھٹکارا مل جاتا ہے۔کئی لوگ لکھتے ہیں کہ ہماری اتنی بچیاں ہیں، اتنے بچے ہیں ان کی شادیاں کرنی ہیں کچھ بھی نہیں ہے دعا کریں۔میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں اور صرف یہ دعا نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرورتیں پوری فرمائے بلکہ یہ بھی کرتا ہوں کہ خدا ان کو قناعت بخشے اور جیسا سادہ زندگی کے ساتھ آنحضرت م ان ضروریات زندگی کو پورا کیا کرتے تھے اسی سادہ زندگی سے ان کو بھی توفیق ملے لیکن ان کی راہ میں ایک مشکل پیدا ہو جاتی ہے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تو آنحضرت ﷺ کے نیک نمونے کے نتیجے میں اکثر معاشرہ اصلاح پذیر تھا اور وہاں تکلفات تھے ہی نہیں۔وہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی معاشرے میں پیدا ہوا اور اس کے نتیجے میں یہ فرائض آسان ہو گئے۔کوئی تکلف بھی انسان کی روزمرہ کی ضرورتوں کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا تھا۔آپ میں سے اکثر کو شاید علم نہ ہو کہ حضرت امان جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جب اپنی بیٹی امتہ الحفیظ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جو سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں رخصت کیا تو پتا ہے کیسے رخصت کیا۔بیٹی کو کپڑے پہنائے صاف ستھرے اور یکہ لیا اور نواب محمد علی خان صاحب کے گھر جن کے بیٹے نواب عبداللہ خان سے شادی ہوئی تھی ، ان کے گھر بیٹی کو پہنچا دیا کہ لو جی اپنی امانت سنبھالو، میں چلتی ہوں ، یہ شادی تھی۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی کی یہ شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت اور آپ کے خاندان کے وقار کے منافی نہیں تھی بلکہ اس کی عزت اور وقار کو چار چاند لگانے والی تھی تو پھر مسئلہ کیا ہے۔پھر کیا مشکل در پیش ہے۔اگر یہی سادہ معاشرہ جو سچائی کا معاشرہ ہے، جو کچھ ہے اسی طرح کرنا ہے، جو کچھ نہیں ہے اس کے متعلق تصور بھی