خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 398
خطبات طاہر جلد 15 398 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء بیمار کا اس بیماری سے نجات پانا ایسا ہی ہے جیسے کسی گہرے کینسر کے مریض کا کینسر کی بیماری سے شفاء پا جانا اور جھوٹ واقعہ ایک کینسر بن جایا کرتا ہے۔وہ رگ وریشہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ایک طرف سے اکھیڑیں تو دوسری طرف کسی اور جگہ اپنی جڑیں گاڑ دیتا ہے۔پس یا درکھیں کہ بڑی نگرانی اور بیدار مغزی کے ساتھ جھوٹ سے اپنے معاشرے کو پاک کرنا آپ پر لازم ہے اور اگر آپ یہ ہم شروع کریں گے تب آپ کو معلوم ہوگا کہ کتنا مشکل کام ہے۔کہنے میں آسان ہے مگر کرنے میں بے انتہا مشکل کیونکہ آپ صبح اٹھ کر جب اپنا پروگرام شروع کرتے ہیں تو ہر قدم پر آپ کے سامنے سچ اور جھوٹ کی دوراہیں کھلتی چلی جاتی ہیں اور ہر قدم پر بسا اوقات آپ بیچ کی عبادت کی بجائے جھوٹ کی عبادت پر اپنے آپ کو آمادہ پاتے ہیں اور جب عادت بن جائے تو پتا بھی نہیں چلتا کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔بعض دفعہ جھوٹ بولنے والے سے آپ کہیں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو تو اللہ کی قسمیں کھا کے کہے گا کہ میں جھوٹ نہیں بولتا اور اتنا جوش ہوتا ہے اس کی قسموں میں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ایک ایسا شخص جس کو میں جانتا تھا کہ سخت جھوٹا ہے اس نے عدالت میں نظام جماعت کے سامنے قضا میں جھوٹی گواہی دی اور اس پر اسے بڑا جوش آیا کہ میرے خلاف فیصلہ ہو گیا ہے۔اس نے مجھے خط لکھا کہ آپ تو مجھے جانتے ہیں کہ میں کتنا سچا ہوں۔اس لئے میری اپیل ہے آپ کی عدالت میں کہ قضا نے جو مجھے جھوٹا قرار دیا ہے اس کو صاف کریں اور میں جانتا تھا کہ وہ جھوٹا ہے لیکن اتنے یقین سے اس نے مجھے لکھا کہ میں حیران رہ گیا۔اس کی عادت میں اتنا جھوٹ تھا کہ ہر بات میں جھوٹ تھا اور یہی وہ جھوٹ ہے جب عادت بن جائے تو انسان کو چاروں طرف سے لپیٹ لیا کرتا ہے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پھر ایسا شخص خدا کے ہاں کذاب لکھا جاتا ہے۔اپنے بچوں میں دیکھیں، اپنے عزیزوں میں دیکھیں، اپنی بیویوں میں دیکھیں ، بیویاں اپنے خاوندوں میں دیکھیں که روز مرہ کتنی بار آپ لوگ بے تکلفی سے جھوٹ بولتے ہیں اور اگر یہ عادت اسی طرح جاری رہی تو آپ کے دین کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا اور خدا کے ساتھ آپ کا تعلق قائم ہو ہی نہیں سکتا۔یا درکھیں اللہ سے سچا تعلق صادق کا ہی قائم ہوا کرتا ہے۔کاذب کا نہیں ہوا کرتا۔یہ الگ بات ہے کہ کوئی کاذب اپنا نام صادق رکھ لے۔کوئی کاذبہ اپنا نام صادقہ رکھ لے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ خدا کی نظر میں سب کچھ ہے اور خدا کا تعلق سچے سے ہوتا ہے جھوٹے سے نہیں ہوتا۔اگر دنیا کی