خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 34
خطبات طاہر جلد 15 34 خطبہ جمعہ 12 /جنوری 1996ء وہ آگ جسے ابراہیم پر بھڑکنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی کیسے اسے اجازت مل سکتی تھی کہ آنحضرت ﷺ کے اس شفاف نورانی تیل پر بھڑ کے گویا وہ تیل اس کی بھڑک کا محتاج تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اور تیل ایسا صاف اور لطیف کہ بن آگ ہی روشن ہونے پر آمادہ (براہین احمدیہ حصہ سوم جلد 1 صفحہ 195 حاشیہ) یعنی آگ کی ضرورت نہیں ہے اس کو۔روشن کیسے ہوگا ؟ یعنی عقل اور جمیع اخلاق فاضلہ اس نبی معصوم کے ایسے کمال موزونیت و لطافت و نورانیت پر واقعہ یعنی یہ وہ صفات ہیں جن کی سب سے اعلیٰ درجہ کی صفت نورانیت ہے اور جو نورانیت سے روشن ہونے پر تیار بیٹھا ہواس کو آگ کی کیا ضرورت ہے۔فرمایا کہ الہام سے پہلے ہی اب الہام تو آگ نہیں ہے الہام سے پہلے ہی خود بخود روشن ہونے پر مستعد تھے۔نُورٌ عَلَى نُورِ یہ ہے نُورٌ عَلى نُورٍ۔پس الہام قرآن کریم ہے جو صلى الله کلام کی صورت میں آپ پر نازل ہوا اور نور علی نور سے مراد وحی الہی ہے جو آنحضرت ﷺ پر نور پر چمکی تو ایک نُورٌ عَلَى نُورِ کا منظر پیدا ہو گیا۔فرماتے ہیں:۔و یعنی جب کہ وجود مبارک حضرت خاتم الانبیا ﷺ میں کئی نور جمع تھے سوان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی و الہی ہے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود با جو خاتم الانبیا ﷺ کا مجمع الانوار بن گیا۔پس اس میں یہ اشارہ فرمایا کہ نو روحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے براہین احمدیہ حصہ سوم جلد 1 صفحہ 195 حاشیہ) اب جہاں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کی گہری سیرت کا بیان فرمایا ہے۔اس سیرت کا نہیں جو ان لوگوں کو نظر آتی ہے جن کی نگاہ کملی پر ٹھہر جاتی ہے۔اس سیرت کا ذکر فرمایا ہے جسے کملی لیٹے ہوئے ہے یعنی سیرت باطنہ جو آپ کی روح کی سیرت ہے، آپ کے دل کی سیرت ہے۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام روشنی ڈالتے ہوئے ہمیشہ کوئی ایسی بات بیان فرما دیتے ہیں جس سے اچانک ہمارا اس نور سے تعلق قائم ہو جاتا ہے اور ہم پر ایک فریضہ عائد ہو جاتا ہے کہ لطف تو اٹھا لئے قلب و نظر نے ، مگر اب پیچھے بھی چلو۔اگر پیچھے