خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 33

خطبات طاہر جلد 15 33 33 الله خطبہ جمعہ 12 /جنوری 1996ء میں جھونک دو گے تا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دین کو طاقت ملے اور ہر طرح سے اس کی نصرت کرو گے جس نے تمہاری نصرت فرمائی ہے۔پس دیکھیں وہ کمزور لوگ جن میں اتنی بھی طاقت نہیں تھی کہ اپنے نفس کے بندھنوں سے آزاد ہو سکتے ان کو محمد رسول اللہ ﷺ نے آزاد کروایا ہے اور آخر پر خدا کی طرف سے یہ مطالبہ ہے کہ اب اس کی مدد کرو، اب اس کو طاقت پہنچاؤ۔ایسے عظیم محسن ہیں کہ تم جو چاروں طرف سے ظلمات میں گھرے پڑے تھے ، ایک قدم اٹھانے کی طاقت نہیں تھی ،سر سے پاؤں تک جکڑے ہوئے تھے تمہارے سارے بندھن توڑے تمہیں طاقت بخشی تمہیں اٹھایا تمہیں پیچھے چلایا۔اب تمہارا فرض ہے کہ اس رسول کی مدد کرو، اس کو طاقت پہنچاؤ، کیونکہ صرف تم تک طاقت پہنچانا مقصد کو پورا نہیں کرتا۔یہ وہ رسول ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لئے بنایا گیا ہے اور کام ابھی باقی ہے۔ابھی بہت بڑا سفر ہے جو طے کرنا پڑے گا اور اس سفر میں جتنے جتنے غلام آزاد ہوتے چلے جائیں گے وہ سارے کے سارے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معین اور مددگار بن جانے چاہئیں۔ایسا کرو گے تو پھر خدا کے نزدیک تمہارے متعلق یہ فیصلہ ہوگا وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِى أُنْزِلَ مَعَہ ہاں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے فی الحقیقت اس نور کی پیروی کی ہے جو اس کے ساتھ اتارا گیا تھا۔أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یقیناً یہی ہیں جو کامیاب ہونے والےلوگ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جس عبارت سے میں نے ایک اقتباس پیش کیا تھا اس کا ایک حصہ باقی تھا اور اس کا اسی مضمون سے تعلق ہے۔اس لئے اب آخر پر میں اس عبارت کے حوالے سے آپ کو اس مضمون کی بعض اور باریکیاں سمجھاتا ہوں۔میں نے گزشتہ خطبے میں یہ عرض کیا تھا کہ ”میرے نزدیک آگ اگر اسے نہ بھی چھوٹی ہوتی تو وہ بھڑک اٹھنے پر تیار تھا“ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آگ کی انتظار تھی آگ چھوٹے گی تو پھر وہ بھڑ کے گا۔آگ سے پہلے بھڑک تو سکتا تھا مگر جب آگ کا الله شعلہ پڑا تو بھڑک اٹھا، یہ ہرگز مراد نہیں۔آگ کا تو آنحضرت ﷺ کے وجود سے کوئی دور کا بھی تعلق صلى الله نہیں ہے۔آگ کے متعلق تو محمد رسول اللہ ﷺ کے کامل غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے الہاما یہ فرمایا کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے“ تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 584)