خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 393
خطبات طاہر جلد 15 393 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء میں ارادہ باندھیں اور مسلسل توجہ کے ساتھ محنت کرتے چلے جائیں اور جھوٹ سے چھٹکارے کی کوشش اور سچ بولنے کی عادت کو اپنانے کی کوشش کرتے چلے جائیں۔اس حالت میں آنحضرت یہ فرماتے ہیں کہ ایسا وقت آتا ہے کہ وہ خدا کے حضور صدیق لکھا جاتا ہے۔یعنی جب سچا ہو جاتا ہے اور یہ محنت ضائع نہیں جاتی اس کے برعکس فرمایا ) اور تمہیں جھوٹ سے بچنا چاہئے کیونکہ جھوٹ فسق و فجور کا باعث بن جاتا ہے اور فسق و فجور آگ کی طرف لے جاتے ہیں۔ایک شخص جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کا عادی ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب لکھا جاتا ہے۔(بخاری کتاب الادب، باب قول الله تعالى اتقو الله وكونوامع الصادقين) پس اگر چہ جھوٹ کا عادی انسان بعض دفعہ بے خیالی میں بھی جھوٹ بولتا ہے مگر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ عادت ایک لمبے عرصے کی بدیوں کی وجہ سے پختہ ہوئی ہے۔اس کا مزاج بن گیا ہے اور ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کذاب لکھ دیتا ہے یعنی انتہائی جھوٹ بولنے والا اور کذاب کے لئے جہنم مقدر ہے وہ جنت کا منہ نہیں دیکھے گا۔پس لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ میں جو شہادت بیان فرمائی گئی ہے وہ درحقیقت اسی غرض سے ہے کہ اگر آپ جھوٹ کا منہ نہیں دیکھیں گے تو آپ جہنم کا منہ بھی نہیں دیکھیں گے۔اگر آپ جھوٹ کا منہ دیکھیں گے تو جنت کا منہ نہیں دیکھیں گے۔یہ دو چیزیں اکٹھی نہیں چل سکتیں۔اس کے باوجود ہم جھوٹ سے بہت بے پرواہ ہیں اور بسا اوقات ایک کام کرنے سے پہلے ہی جھوٹ کا ارادہ باندھ کر گھر سے چلتے ہیں۔کوئی تجارت ہو یا کوئی معاہدہ کرنا ہو یا کسی ملک میں داخل ہونا ہو، پاسپورٹ کا ناجائز استعمال کرنا ہو یا کوئی اور غرض پیش نظر ہو بسا اوقات انسان دل میں یہ ارادہ باندھ کر گھر سے نکلتا ہے کہ میں جھوٹ بولوں گا اور مطمئن ہو جاتا ہے کہ اب میرے کام بن جائیں گے کیونکہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جھوٹ سے فائدہ اٹھاؤں گا۔یہ جو اطمینان قلب ہے جو جھوٹ کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے یہ شرک ہے اور یہ پکی علامت ہے کہ یہ انسان مشرک ہے، بت پرست ہے، اگر چہ اپنا نام اس نے موحد رکھا ہے۔عبادت کرتا ہے خدا کی بظاہر ہجدے کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے