خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 394
خطبات طاہر جلد 15 394 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء حضور لیکن اس کی ساری فطرت ، ساری روح جھوٹ کے حضور جھکی رہتی ہے اور اسی کو سجدے کرتی ہے۔پس یا درکھو کہ جھوٹ کوئی معمولی بیماری نہیں۔یہ ایسی بیماری ہے جو ہر شرک کی جڑ اپنے اندر رکھتی ہے۔ہر ناشکری کی جڑ اپنے اندر رکھتی ہے۔پس تو حید کے منافی ایک ایسا گناہ ہے جو تو حید کے ہر پہلو سے اس کی حقیقت کو چاٹ جاتا ہے، کچھ بھی باقی نہیں رکھتا اور احسان مندی ، احسان کے خیال یا شکرگزاری کے جذبات کو بھی کلینتہ چٹ کر جاتا ہے۔جھوٹے لوگ نہ اپنے ماں باپ کے ہوتے ہیں ، نہ خدا کے ہوتے ہیں اور ماں باپ کا ذکر خدا کے بعد اس تعلق میں بیان فرمایا گیا ہے، اس نسبت سے بیان فرمایا گیا ہے کہ سب سے بڑا رشتہ تخلیق کا رشتہ ہے۔خدا چونکہ خالق ہے اس لئے سب سے زیادہ اس کا حق ہے اور خدا کے بعد چونکہ ماں باپ تخلیق کے عمل میں بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ حصہ لیتے ہیں، تمام رشتوں میں سب سے زیادہ تخلیقی عمل میں حصہ لینے والے ماں باپ ہوتے ہیں اس لئے خدا کے بعد اگر کسی کا حق ہے تو ماں باپ کا ہے اور جھوٹ ان دونوں حقوق کو تلف کر دیتا ہے۔دوستیوں کے حقوق کو بھی تلف کر دیتا ہے کیونکہ وہ نسبتاً ادنی ہیں۔میاں بیوی کے حقوق کو بھی تلف کر دیتا ہے کیونکہ وہ نسبتا ادنی ہیں۔قومی حقوق کو بھی تلف کر دیتا ہے کیونکہ وہ نسبتاً ادنی ہیں اور حکومت کی اطاعت، فرمانبرداری اور انصاف کے ساتھ اس سے معاملہ کرنے کو بھی تلف کر دیتا ہے کیونکہ یہ بھی لوگوں کے نزدیک ایک بہت ہی معمولی بات ہے۔پس یہ دیکھیں کہ جھوٹ آپ کی مجالس میں پلتا کیسے ہے؟ آپ کے گھروں میں کس طرح بار بار استعمال ہوتا ہے اور کیوں آپ کی طبیعت پر اس کا برا اثر نہیں پڑتا ؟ جب تک یہ احساس بیدار نہیں کریں گے آپ جھوٹ کی بیماری سے شفایاب نہیں ہو سکتے۔آپ ایک ایسی قوم میں آئے ہیں، ایک ایسے ملک میں آپ نے پناہ ڈھونڈی ہے جو اس پہلو سے بالعموم آپ سے بہتر نمونے دکھانے والا ملک ہے بلکہ جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے اور اس میں رعایت مقصود نہیں بلکہ حقیقت حال میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔تمام یورپ میں میرے نزد یک جرمن قوم سب سے زیادہ سچ بولنے والی ہے۔اللہ کرے یہ ان کی نیکی اور سچائی ان کو بالآخر تو حید کی طرف لے جائے۔خدا کرے یہ نیکی قائم رہے اور جیسا کہ آج دنیا میں سچ زائل ہو رہا ہے اس قوم میں یہ بیماری داخل نہ ہو جو عموماً ترقی یافتہ ملکوں میں بھی داخل ہو چکی ہے اور یہ قوم اپنے سچ کی حفاظت کر سکے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد گہری نظر سے جائزہ لینے کے بعد