خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 387
خطبات طاہر جلد 15 387 خطبہ جمعہ مورخہ 17 مئی 1996ء کو نہیں بھرو گے تو سلوک کی کوئی منزل طے نہیں ہوگی۔پس بدیوں کا ترک نیکیوں کے استقبال کا ذریعہ ہے اور جب تک نیکیاں حاصل نہ ہوں خدا کی طرف آگے بڑھنے کے لئے قدم اٹھانے کی توفیق نہیں مل سکتی۔آگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یا درکھو کہ ریاء حسنات کو ایسے جلا دیتی ہے جیسے آگ خس و خاشاک کو ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 666،665) اور جو نیکیاں ہیں ان کی حفاظت کے لئے پھر ایک اور مشکل بدیاں دور کرو اور نیکیاں اختیار کرو اور ریاء کا ڈاکو ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ہر قدم پر دکھاوے کا جو شیطان ہے وہ ابتلا لے کر آتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تو ایسے ہے جیسے خشک گھاس پھوس کو آگ دکھا دی جائے اس طرح یہ نیکیاں جل جاتی ہیں۔دراصل اس میں ایک اور گہر ا مضمون ہے وہ یہ ہے کہ نیکی جس کے ساتھ دکھانے کی تمنا ہو وہ ہری ہوتی ہی نہیں وہ ہوتی ہی خشک گھاس کی طرح ہے اور ریاء بس وہ تیلی بنتی ہے جو خشک گھاس پھوس کو دکھا دی جاتی ہے اس نے تو پھر بھڑ کنا ہی ہے ،اس کے مقدر میں جل جانا ہے۔ورنہ نیکیوں میں گیلی مٹی کا مضمون پایا جاتا ہے۔اس کے اندرطراوت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ روئیدگی ہوتی ہے، سبزی اس سے نکلتی ہے اس کو تو تیلی جلا نہیں سکتی اور تیلی کا دماغ میں تصور بھی نہیں آتا اس کے ساتھ۔پس وہ جس کو لوگ نیکی سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً ان کے جلانے کا انتظام بھی کرتا رہتا ہے یہ قانون قدرت ہے۔جیسے گھاس پھوس کسی باغ میں زیادہ اکٹھا ہو جائے تو مالی ایک طرف کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ پھر اس ڈھیر کو ایک دن تیلی دکھا کر اس خس و خاشاک سے اپنے چمن کو پاک کر لیتا ہے۔تو اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں نیکی کا سفر کرنے والوں کا حال ہے جوان کے ریاء کی باتیں ہیں شیطان ان کو تیلی لگاتا ہے اور وہ جل کر خاک ہو کر جو اگر باقی کوئی نیکی رہ گئی ہے تو وہی رکھیں گی باقی سب باتیں اس دنیا میں خاک ہو کر اڑ جاتی ہیں۔تو کوئی پتا نہیں کہ ہم کتنی نیکیاں لے کر خدا کے حضور حاضر ہوں گے۔اب اس مضمون پر نظر رکھیں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنے ہم نے بظاہر پھل پھول اکٹھے کئے کتنے ہی سرو و سمن سے اپنے نیکی کے چمن کو سجایا اور سمجھتے یہ ر ہے کہ یہ لہلہاتا ہوا باغ ہے لیکن وہ تھا خشک گھاس پھوس۔اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں یا سوکھی ہوئی ٹہنیاں تھیں اور ریاء کے ہر