خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 376 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 376

خطبات طاہر جلد 15 376 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بھی لوگ بعض دفعہ زیورات بھیجتے تھے اور خود آپ پر بھی نام ظاہر نہیں کرتے تھے لیکن بہت سے ایسے تھے جو آپ پر ضرور ظاہر کرتے تھے اور دونوں باتیں اخفاء میں ہیں۔جس نے نہیں ظاہر کیا اس نے اپنے پر اعتماد نہیں کیا۔یہ نہیں کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتماد نہیں تھا۔اس نے اپنے اوپر اعتماد نہیں کیا اس کو یہ یقین نہیں تھا کہ اگر میں نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی نام ظاہر کر دیا تو شاید میں اپنے نفس کی انا کی پیاس بجھانے کے لئے ایسا کر رہا ہوں اور دل چاہتا تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اپنی نیکی کو ظاہر کروں تا کہ دعائیں بھی حاصل کروں لیکن دعاؤں کے ساتھ جہاں نفس کی ملونی کا خطرہ ہوا وہاں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسا کرنے والوں کو خود اپنے اوپر اعتماد نہیں تھا اور اعتماد نہ ہونے کے نتیجے میں اس نے اپنے ہاتھ سے اپنی انا کی گردن پر چھری پھیری ہے۔گویا اب کوئی امکان باقی نہیں رہا کہ میری انا کسی طرح بھی خوش ہو سکے اس لئے یہ قربانی تو ضرور خالصہ اللہ کے لئے ہوگی۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود نے ایک ہی تحریر میں ایک بات بیان فرما کر اس کا ایک پہلو روشن فرمایا اور اس بات سے پردہ اٹھا دیا کہ کیسے ایک ہاتھ کی نیکی کی دوسرے ہاتھ کوخبر تک نہیں ہوتی۔پھر ایسے بھی ہیں جو یہ اس غرض سے کرتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ میرے اور خدا کے درمیان ایسا تعلق قائم ہو جائے کہ اس کے اندر کسی انسان کا کوئی واسطہ نہ رہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب نام چھپاتے تھے تو کسی تکبر کی بناء پر نہیں کہ میرا خدا سے براہ راست تعلق ہے بلکہ خدا کی توجہ اپنی طرف پھیرنے کے لئے کہ میں بھی ایک تیرا بندہ ہوں میری نیکی براہ راست تجھ تک پہنچے اور کسی اور کا دخل نہ ہو۔یہ مضمون ہے جو عین ایسے بار یک کنارے پر کھڑا ہے کہ غلط بھی ہو سکتا ہے اور صحیح بھی ہو سکتا ہے۔اگر غلط ہو تو ایسا آدمی ٹھوکر کھا کے گر بھی سکتا ہے۔اگر صحیح ہو تو بہت بلند مقام تک اس کو پہنچا دیتا ہے اور گرتا ہے تو خدا کی جھولی میں گرتا ہے۔پس اس پہلو سے سر “ کا مضمون بہت ہی گہرا اور باریک ہے اور جب تک ہم اس مضمون کو نہ سمجھیں زیادہ ترقیات نہیں کر سکتے کیونکہ سر“ کہ اندر جو اندھیرے ہیں وہ اپنی ذات کی راہ میں بھی حائل ہوتے ہیں۔سر “ کو پہچاننا بہت مشکل کام ہے اس لئے جو اپنی نیتوں کو ٹولتا رہتا ہے اسے رفتہ رفتہ وہ بصیرت عطا ہوتی ہے جیسے اندھیرے کمرے میں رہنے کے عادی کی آنکھوں کو عطا ہوتی ہے۔وہ آنکھیں رفتہ رفتہ کھل وو 66