خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 375
خطبات طاہر جلد 15 375 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء نہیں دیکھتا اور اسی تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اپنا بھی ایک تجربہ بیان فرمایا ہے۔کسی نے آپ سے پوچھا کہ آپ جب نماز پڑھتے ہیں اور خاص کیفیت طاری ہوتی ہے لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں تو آپ کو بھی خیال نہیں آتا کہ وہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں۔آپ نے فرمایا جیسے انسان طویلہ میں نماز پڑھے اردگر دگھوڑے بندھے ہوں تو کسی کو خیال آئے گا کہ گھوڑے دیکھ رہے ہیں؟ وہم وگمان میں بھی نہیں یہ بات آتی کہ کوئی دیکھ رہا ہے کیونکہ میری نماز کا ان سے تعلق ہی کوئی نہیں۔جس کے ساتھ ہے وہ دیکھ رہا ہے اور اسی کا خیال ایسا غائب ہو جاتا ہے کہ کسی اور طرف توجہ جاتی ہی نہیں تو ضروری نہیں کہ ہر نماز کو چھپا کر ہی پڑھا جائے تو وہ سری نماز بنے گی ورنہ علانیہ ہو جائے گی۔یہ مضمون بھی سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ہر چیز جو ظاہر ہے وہ ظاہر نہیں ہے بعض دفعہ سر “ ہی ہوتی 66 ہے اور اس کے اندر سر ہوتے ہیں پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو نما ز لوگ دیکھتے تھے اور وہ نمازیں جو دوسروں کی دیکھتے تھے بظاہر تو ان میں فرق نہیں تھا۔اگر خشوع و خضوع ہے تو بعض دفعہ غیروں میں بھی بڑے زور سے خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے مگر یہ سری“ کیفیت کہ پرواہ ہی کوئی نہیں کوئی دیکھ رہا ہے کہ نہیں دیکھ رہا ان کی حیثیت ، حقیقت ہی کوئی نہیں۔جس نے دیکھنا تھا وہ جانتا ہے اور وہی میرے لئے کافی ہے۔یہ بھی ایک سر“ ہے جو علانیہ نمازوں میں بھی پیدا ہو جاتا ہے اور نیکی کا بھی یہی حال ہے۔بعض دفعہ ایک انسان چندے لکھواتا ہے چندے ادا کرتا ہے اس کے نام رسیدیں کٹتی ہیں اور اکثر یہی ہوتا ہے کیونکہ ہم نے چندے کے نظام کی بھی حفاظت کرنی ہے۔مگر دیکھنے والے کے ذہن میں کسی طرح بھی کسی قسم کا کوئی ریاء کا پہلونہیں ہوتا۔مگر اس کے باوجود کچھ ایسے بھی ہیں جو محنت کر کے اپنی نیکی کو خود اپنی ذات سے بھی چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ جو فر مایا کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہیں ہوتی یہ بہت اہم مضمون ہے۔یہ کوئی مبالغہ آمیزی نہیں ہے۔ورنہ لفظا تو ایک ہاتھ سے آپ نیکی کریں تو دوسرے ہاتھ کو ضرور خبر ہوگی کیونکہ آپ ایک ہی وجود کے حصے ہیں۔مگر یہ جو مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے عشاق کے حوالے سے بیان فرمایا کہ میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ ایسے ایسے بھی ان میں ہیں کہ جو مجھ تک سے نام چھپاتے ہیں اور مومن کا اپنے آقا سے اتنا بھی فرق نہیں ہوتا جتنا ایک ہاتھ کا دوسرے ہاتھ سے ہوتا ہے۔پس ایک ہاتھ سے نیکی کرنا اور دوسرے ہاتھ سے چھپانا اس سے بہتر انداز میں ظاہر نہیں فرمایا جا سکتا کہ