خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 369

خطبات طاہر جلد 15 369 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء سے ٹکرائے گی اور بہت ہی بھیانک مناظر ابھریں گے اور ان مظالم کا شکار تمام اعلیٰ انسانی اقدار ہو جائیں گی۔مظلوم مارے جائیں گے اور ظالم، مظلوم پر پھبتیاں اڑاتے پھریں گے۔پس ایسے ملک میں جہاں خدا کے نام پر مظالم ہوں، ایسے ملک میں جہاں رام کے نام پر مظالم ہوں، جہاں برہمو کے نام پر مظالم ہوں تو نہ خدا نہ رام، نہ برہمو، کوئی بھی نہیں ملتا۔سب ان ملکوں سے نکل چکے ہوتے ہیں تب یہ توفیق ہوتی ہے۔ان کا حال تو ویسا ہی ہو چکا ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایسے چرچ میں جو سفید فاموں کا چرچ تھا ایک کوئی بڑھا سیاہ فام عیسائی اندر داخل ہو گیا۔جب لوگوں کو پتا چلا کہ یہ سیاہ فام ہو کر سفید فام لوگوں کے چرچ میں آ گیا ہے تو انہوں نے مار کے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔انہوں نے کہا تمہاری یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔عیسائیت جو بھی تھی وہ محبت ضرور رکھتا تھا عیسائیت سے۔وہ باہر نکل کر ساری رات اس چرچ کی سیڑھیوں پر روتا رہا کہ اے یسوع ! میں تو تیری محبت اور پیار میں یہاں آیا تھا۔مجھے اس چرچ سے دھکے دے کر نکال دیا گیا ہے۔اس کو اسی حالت میں اونگھ آگئی اور رویا میں حضرت یسوع دکھائی دئے۔اس نے کہا تجھے کیا ہو گیا ہے کیوں رورہا ہے۔اس نے جب بتایا۔اس نے کہا دیکھو میں تو دو ہزار سال ہو گئے ہیں ایسے چرچوں میں میں نے گھس کر بھی نہیں دیکھا۔تمہیں تو آج دیس نکالا ملا ہے چرچ سے، مجھے دو ہزار سال سے دیس نکالا ملا ہوا ہے۔اگر میں رؤوں تو میری بقیہ ساری عمر روتے روتے کٹ جائے گی۔تم میرے ساتھ ہو خوش نصیب ہو۔پس ایسے ملکوں میں جہاں اسلام کے نام پر ظلم ہوں یا ہندومت کے نام پر ظلم ہوں یا عیسائیت کے نام پر ظلم ہوں اگر کوئی نہیں ہوتا تو خدا نہیں ہوتا باقی سب چیزیں پھر چلتی ہیں اور پنپتی ہیں۔دعا کریں کہ اللہ ان کو ہوش دے ان کو عقل اور ہوش کے ناخن دے مگر وہ ناخن لوگوں کو چھیلنے والے نہ ہوں۔ظلم کے ناخن نہ ہوں۔اللہ ان کو عقل دے، ایسی عقل نہ دے جو گھاس چرتی ہے۔ایسی عقل دے جو جانوروں کو انسان بنانے والی عقل ہوا کرتی ہے نہ کہ انسانوں کو جانور بنانے والی۔پس دعا ئیں سب سے بڑی طاقت ہیں۔اپنی دعاؤں کو ان مقاصد کے لئے استعمال کرو اور نصیحت کو ان مقاصد کے لئے استعمال کرو۔اپنے گرد و پیش درد کے ساتھ ، دل کی گہرائی کے ساتھ ، ان حق کی آوازوں کو بلند کرو اور پھر انتظار کرو۔میں تمہیں ایک یقین ضرور دلاتا ہوں اور آج تک کبھی میرا یہ یقین متزلزل نہ ہوا ہے، نہ مرتے دم تک ہوگا کہ تم ضرور سرفراز ہو گے۔تمہاری قسمت میں ناکامی کا