خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 366
خطبات طاہر جلد 15 366 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء ہندوستان کے احمدیوں کا فرض ہے کہ تمام سیاسی سطح پر خواہ وہ مقامی ہو یاوہ ملکی ہو ،ضلعی ہو یا صوبائی ہو، ہر سطح پر دانش وروں سے ملاقاتیں کریں، ان کو بتائیں کہ کیا کیا ظلم ہونے والے ہیں۔ہندوستان اور پاکستان کے جو اقتصادی حالات ہیں وہ اس قسم کے ظالمانہ دور کو برداشت ہی نہیں کر سکتے۔سب کچھ مٹ جائے گا۔نہ ہندو کو فتح ہوگی نہ مسلمان کو ہوگی۔سوائے بربادی کے مذہبی انتہا پسندی نے کبھی بھی دنیا کو کچھ نہیں دیا۔ان کو سمجھائیں کہ پاکستان سے نصیحت پکڑ وعبرت حاصل کرو د یکھتے نہیں وہاں کیا ہوا ہے اور کس حال میں قوم پہنچ گئی ہے۔بھائی بھائی سے الگ ہو گیا، گھر گھر ڈا کے پڑنے لگے۔نہ عورت کی عزت محفوظ، نہ بچیوں کی عزت محفوظ ، نہ بیٹوں کی ، نہ باپوں کی گلی گلی ظلم کے ناچ ہونے لگے اور کسی گھر میں کوئی امن باقی نہیں رہا۔پولیس کی وردیوں میں ڈاکو نکلتے ہیں اور جو پولیس کی وردیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی ڈاکوؤں سے کم نہیں ان کا بس چلے تو سب کچھ لوٹ لیتے ہیں۔ایسی خوفناک صورتحال ہے اخلاقی لحاظ سے کہ جو رپورٹیں بھی مجھے ملی ہیں قتل کے مقدمات کے تعلق میں وہ کہتے ہیں کہیں قتل ہو سہی پھر دیکھو تھانے داروں کی کیسی چاندی ہوتی ہے۔سارا جو عملہ ہے تھانے کا اس میں ایک سنسنی سی ہو جاتی ہے گویا عید کی خبر آئی ہے اور پھر وہ دونوں فریق سے زیادہ سے زیادہ لوٹنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی غریب اس موقع پر جہاں بے چاروں پر پہلے ہی قتل پڑ چکا ہے، اگر جھوٹا قتل پڑا ہوا ہے پولیس کی پوری خدمت نہ کریں تو پھر وہ ان پر ایسا پکا قتل کا مقدمہ باندھتے ہیں کہ معصوم گردنیں پھانسیوں کے حوالے کر دی جاتی ہیں اور کسی کو کوئی حس نہیں ہے۔یہ ایک دفعہ نہیں، دودفعہ نہیں سینکڑوں مرتبہ پاکستان میں ہو چکا ہے کہ پولیس کو خوش نہ کر سکے تو ایک معصوم آدمی کی گردن پھانسی کے حوالے کر دی گئی اور جو ظالم ہے اس کو تو پیسے دینے کی عادت ہی ہے۔اسے تو جو رشوت خور ہے بہت خوش رہتا ہے کیونکہ جو جائیدادیں بیچ کر دیتے ہیں ان کو پتا لگتا ہے کہ کیا تکلیف ہے رشوت دینے کی۔جو جائیداد میں غصب کر کے رشوت دیتے ہیں ان کو کیا تکلیف ہے۔آج ایک جائیدادلوٹی ہے کل پولیس کی مدد سے دوسری جائیداد لوٹ لیں گے اور ان کے ہاں کی نہیں آتی۔سیاست میں بھی جب سیاست گندی ہو جائے یہی کچھ ہوتا ہے۔وہ خرچ کرتے ہیں، بڑا بڑا خرچ کرتے ہیں، مگر جانتے ہیں کہ سارے خرچ ہم نے ، ایک دفعہ سیاست میں کامیاب ہو جائیں تو انہی لوگوں سے نکالنے ہیں۔وہ جو انتخاب سے پہلے منتخب ہونے