خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 364
خطبات طاہر جلد 15 364 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء ڈور تمہارے سپرد کی جائے۔اَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ عدل سے حکومت کرنا ہوگی۔عدل کے تقاضوں کو چھوڑ نہیں سکتے۔اب عدل تو توازن کو کہتے ہیں۔عدل کے تصور کے ساتھ یہ تصور ا کٹھا بیک وقت زندہ رہ ہی نہیں سکتا کہ عدل کے تقاضے ایک مذہب والے کو زیادہ سیاسی یا اقتصادی حقوق دیں اور دوسرے مذہب والے کو کم سیاسی یا اقتصادی حقوق دیں۔Civil Rights تو تمام شہریوں کا برابر کا حق ہے اور عدل اور Civil Rights یعنی شہری حقوق میں تفریق ، بیک وقت یہ دو چیزیں رہ ہی نہیں سکتیں۔تو ایسے جاہل لوگ ہیں جو اس وقت ہمارے مذہب کی سیاست پر قابض ہیں کہ خدا کے نام پر نا انصافی کی تعلیم دیتے ہیں اور کہتے ہیں اسلام کی یہ تعلیم ہے، اسلام مسلمانوں کوحق دیتا ہے کہ اپنے لئے جتنے حقوق چاہے اسلام کے نام پر لے اور دوسرے کو جتنے حقوق سے چاہے محروم کرے مگر ہو اسلام کے نام پر ، دنیا کے نام پر نہیں۔یہ تو نا جائز بات ہے۔خدا کے نام پر جتنے مظالم کرنے ہیں کر لو ، جب وہ کھلی چھٹی دیتا ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہے۔قتل و غارت کرو، خون بہا ؤ، گھر لوٹو ، لوگوں کو اپنے وطن سے بے وطن کرو، جیلوں میں ٹھونسو، جھوٹے مقدمات بناؤ مگر دیکھو یا درکھنا خدا کے مقدس نام پر بناناور نہ خطرناک بات ہے۔تو اس تقدس کی حفاظت جس قوم کو نصیب ہو جائے جس کا تصور ہی تقدس سے خالی ہے تو ایسی جاہلانہ مذہبی حکومت ظاہر ہوتی ہے جس کے ساتھ ملک کا تمام امن وامان اٹھ جاتا ہے اور ملک کی گلی گلی سے نا انصافی کے واویلوں کی آواز میں سنائی دیں گی۔یہ کر بیٹھے ہوا اپنے ملک میں اور تمہاری بد بختی ابھی تمہیں دکھائی نہیں دے رہی۔یہ کچھ کر بیٹھے ہو یہاں اور اب اگلے ملک میں کروانے کے انتظام کروا ر ہے ہو تم ذمہ دار ہو اور خدا کے حضور تم ذمہ دار ہو، تم نے خدا کے نام پر اور اسلام کے نام پر سب سے زیادہ اسلام پر، خدا پر ظلم کئے اور اس کے بندوں پر ظلم کئے۔اب یہی طریق کار مظالم کے تمہاری ہمسایہ قوم نے سیکھ لئے ہیں جو تعداد میں تم سے زیادہ ہے اور وہاں ابھی بھی اتنی تعداد میں مسلمان موجود ہیں کہ تقریباً پاکستان کی آبادی کے برابر ہندوستان کے مسلمانوں کی تعداد ہے۔تمہیں تو کچھ نصیب ہوگا یا نہیں اور میں جانتا ہوں کہ کچھ نصیب نہیں ہو گا مگر ان کے نصیب مارے گئے جو تمہارے ہم مذہب، اسی خدا کو ماننے والے، اسی رسول کے عشاق تو ضرور ہیں خواہ عشق کے تقاضے پورے کریں یا نہ کریں جس خدا کو تم مانتے ہو جس رسول کے عشق کا تم دم بھرتے ہو۔ان