خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 363
خطبات طاہر جلد 15 363 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء پر یہ قوم قابض تھی۔سیاست پر یہ قوم قابض تھی۔تمام تعلیمی اداروں پر ان کا قبضہ تھا۔تمام Professions پر ان کا قبضہ تھا۔ڈاکٹر بھی یہی چوٹی کے تھے۔سرجن بھی یہی چوٹی کے تھے۔سائنس دان بھی یہی تھے اور اقتصادیات کے ماہرین بھی یہی اور اقتصادی دولتوں پر قابض بھی یہی تھے لیکن دیکھیں حکومت کے سامنے کچھ پیش نہیں گئی۔تو قانون سازی ایک بہت بڑی طاقت ہے۔اور جب قانون سازی کے ذریعے کسی قوم پر مظالم کئے جائیں تو پھر اس کا کوئی جواب اس قوم کے پاس نہیں رہتا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو اور وہ ان کی حمایت میں کھڑا ہو جائے۔پس ہندوستان میں اب یہ ہوا ہے۔ایک ایسی حکومت کے آنے کا احتمال پیدا ہو گیا ہے جو حکومت قانون سازی کے ذریعے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔وہ قانون سازی کے ذریعے اسلام کے سارے تاریخی نشان مٹا دینے کا تہیہ کر کے آ رہی ہے۔وہاں وہ سابقہ باتیں جو کسی زمانے میں بعض مسلمان بادشاہوں کی یاد گاریں تھیں ابھی بھی ان کو نظر انداز کر کے فضائی پولوشن (Pollution) کا نشانہ بننے دیا گیا ہے ان کے خلیے بگاڑ دئے گئے ہیں۔مگر یہ اتفاقی باتیں ہیں۔جو میں دیکھ رہا ہوں آگے آنے والی باتیں اگر بی۔جے۔پی کوحکومت نصیب ہوگئی جو ا بھی تک تو لٹکا ہوا معاملہ ہے یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا تو پھر دیکھیں کہ وہاں کس تیزی سے کیسے گہرے اور دیر پا اثر کرنے والے واقعات رونما ہوں گے اور اس پہلو سے مسلمانوں کو ہر جگہ اپنے کردار، اپنے اعمال،اپنے نظریات پر نظر ثانی کرنی چاہئیے۔مذہب کے نام پر کسی دوسرے انسان کا حق سلب کرنے کی دنیا کا کوئی مذہب اجازت نہیں دے سکتا۔اگر دیتا ہے تو جھوٹا ہے۔تو اسلام کو جھوٹے مذاہب کی صف میں کیوں لاکھڑا کیا ہے۔اسلام تو انصاف کا ایسا علم بردار ہے کہ دنیا کی کسی مذہبی الہی کتاب میں انصاف کی حمایت میں ایسے عظیم الشان احکام موجود نہیں ہیں، ایسی واضح تعلیمات موجود نہیں ہیں جیسی قرآن کریم میں ہیں۔مذہبی حکومت، مذہبی حکومت کا شور ڈالا ہوا ہے ان مولویوں نے اور قرآن کریم پڑھ کے دیکھیں وہاں کسی مذہبی حکومت کا ذکر ہی نہیں ملتا۔صرف ایک مذہبی حکومت کا ہے اس کے سوا سارے قرآن میں دوسری مذہبی حکومت کا کوئی تصور نہیں۔وَإِذَا حَكَمْتُمُ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ۔اے مسلمانو! تمہارے لئے ایک ہی قانون ہے حکومت کا اس کے سوا اور کوئی نہیں۔اگر تم حکومت میں آ جاؤ اگر حکومت کی باگ تصور