خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 362
خطبات طاہر جلد 15 362 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء پڑتی ہیں۔شروع سے ہی ہم دیتے آئے ہیں۔مگر جب حکومت قانون سازی کے ذریعے ظلم شروع کرتی ہے تو پھر قوموں کے قبضہ اختیار میں یہ بات نہیں رہتی۔اس وقت ان کی قوم کی زندگی اور سلامتی پر حملہ ہوتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو فرعون کے حوالے سے قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور کسی اور حوالے سے اس طرح بیان نہیں فرمایا۔فرعون نے قانون سازی کر کے بنی اسرائیل کو ہمیشہ کے لئے زندگی کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی تھی اور قانون سازی کے ذریعے ان کی قومی صلاحیتوں کو کچل کے رکھ دیا تھا۔ان کے مردوں کو عورتیں بنادیا تھا یعنی وہ مردانہ صفات جو مقابلہ کی طاقتیں ہیں ان کو کچل کے رکھ دیا، ان کے اندر کوئی دم خم باقی نہیں رہنے دیا۔یہی وہ کوشش تھی جس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کامیاب جدو جہد کے بعد بالآخر الہی تقدیر سے فرعونیت ناکام ہوئی ہے، نہ کہ انسانی تدبیر سے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ماننے والوں میں تو کوئی طاقت نہیں تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے پاکستان میں جماعت کو جو سرخروئی عطا فرمائی ہے۔بڑی کامیابی اور ہمت کے ساتھ ان حملوں کو پسپا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے، ان قوانین کو نا مرا در کھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔تمام تر حکومت کی کوششوں اور سخت مظالم کے باوجود احمدیت کا نام مٹانے کی بجائے احمدیت کو پاکستان میں پہلے سے زیادہ پیوستہ کر گئے ہیں۔یہ وہ تو فیقات ہیں جو خدا کی طرف سے اترا کرتی ہیں۔بندوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ورنہ دنیاوی تاریخ میں تو جب بھی ممالک نے قانون سازی کے ذریعے بعض قوموں کو کچلنے کی کوشش کی ہمیشہ کچل دیا۔نائسی جرمنی کے سامنے ان یہود کی کیا حیثیت تھی جو ہٹلر کی قانون سازی سے پہلے تمام جرمنی پر ایک غیر معمولی طاقت اور رعب رکھتے تھے۔تمام جرمنی کی اقتصادیات ان کے قبضے میں تھیں۔تمام جرمنی کی سیاست سے وہ کھیل رہے تھے اور لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہود کی آئندہ تاریخ جرمنی سے وابستہ ہو چکی ہے۔جرمنی کے ذریعے یہ تمام دنیا پر قبضہ کریں گے لیکن جب ایک حکومت اٹھی ہے اور قانون سازی کی ہے تو دیکھیں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ساری طاقتیں ان کی ٹوٹ گئیں۔سائنس پر قبضہ تھا تو سائنس دانوں کو نکال کر باہر پھینکا اور کوئی پرواہ نہیں کی۔آرٹ پر قبضہ تھا، میوزک پر قبضہ تھا، تصویر کشی ، بت بنانے پر بھی انہی کا قبضہ تھا اور بتوں کی تصویریں کھینچے پر بھی انہی کا قبضہ تھا۔وہ جو فائن آرٹس کہا جاتا ہے اس پر بھی یہی قوم قابض تھی۔فلسفے