خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 361

خطبات طاہر جلد 15 361 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء وہاں سپینش طرز فکر کی حکومت ہے اور معدنیاتی ذرائع کا جہاں تک تعلق ہے وہ اللہ تعالیٰ نے جنوبی امریکہ کو شمالی امریکہ سے کم عطا نہیں فرمائے۔بہت ہی غیر معمولی طور پر زرخیز بھی ہے اور معدنیاتی دولتیں بھی اس کو عطا فرمائی گئی ہیں لیکن دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔اس پہلو سے کہ جتنا قرضہ سارے جنوبی امریکہ نے عالمی بینک اور دوسرے اداروں کا دینا ہے اگر ان کی ساری زمینیں بھی بک جائیں تو وہ قرض ادا نہیں ہو سکتا۔اس کی Re-Servicing میں ان کی ساری دولت خرچ ہو رہی ہے یعنی جو Debt Re-Servicing کہلاتی ہے، قرضہ اتارنے کے لئے توفیق نہیں ہوتی بالآ خر سود دینے کی بھی توفیق نہیں رہتی۔جنوبی امریکہ کی حکومتیں وہ قرضے کا سودا تار نے میں ہی اس وقت مصروف ہیں اور ان کو اصل زرا تارنے کی توفیق ہی کوئی نہیں ، نہ ہو سکتی ہے، نہ کوئی نظر آتی ہے۔لوگ جود انشور اس سوال پر غور کرتے ہیں اپنی کتابوں میں لکھ چکے ہیں کہ بنیادی وجہ اس کی یہ ہے کہ چین نے اس دور میں جو مظالم کئے تھے خصوصیت سے وہ مسلمانوں کے مظالم کو تو نظر انداز کر دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں یہود پر جو مظالم کئے تھے وہ ان کو بہت مہنگے پڑے ہیں لیکن ظلم خواہ یہود پر ہو یا ہنود پر ہو یا مسلمان پر ہو ظلم ظلم ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ ظالم کوضرور اس کے ظلم کی سزا دیتا ہے،جلد پکڑتا ہے یا بد سر پکڑتا ہے پکڑتا ضرور ہے۔پس یہ جو تاریخی جرائم ہیں ان کا جرائم کا دور بھی لمبا ہوا کرتا ہے اور پکڑ کا دور بھی بعض دفعہ بہت دیر میں آتا ہے۔بعض دفعہ قو میں ان واقعات کو بھول بھی جاتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نہیں بھولتا۔قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا ادھار یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو اعلان ہے یہ قرآنی صداقتوں پر مبنی ہے۔پس جب تم نے ایک ظلم کا دور، خدا کے نام پر ظلم شروع کیا اور خدا (در نمین: 151) کے ان بندوں کو جن کو سب سے زیادہ اسلام سے محبت تھی سب سے زیادہ عشاق محمد مصطفی ملے تھے اسلام کے دشمن اور رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کے طور پر مجرم بنا بنا کر عدالتوں میں پیش کیا تو کیسے تم خدا کی پکڑ سے اور اس کے غیظ سے بچ سکتے ہو۔یہ قانون بن گیا ہے۔انفرادی طور پر تو احمدیت کو عادت ہے ہمیشہ ہی مظالم دیکھتی رہی ہے اور کبھی کسی جگہ کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ہم جانتے ہیں کہ مذاہب کی تاریخ میں انفرادی طور پر مذہبی جماعتوں کو مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، قربانیاں دینی