خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 360

خطبات طاہر جلد 15 360 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء بھی نہیں کر سکتے۔احمدی اس دور سے گزرے ہیں۔احمدی جانتے ہیں کہ پھر ایسے دلوں پر کیا گزرتی ہے جن کے بنیادی مذہبی حقوق ان سے چھین لئے جائیں اس نام پر کہ ہم جو مذہب کا مطلب سمجھتے ہیں ہمیں حق ہے کہ اس کے مطابق عمل کریں تم جو مذہب کا مطلب سمجھتے ہو تمہیں حق نہیں ہے کہ اس کے مطابق عمل کرو کیونکہ تم ایک اقلیت ہو۔بالکل یہی دلیل ہے سو فیصد، جس کے نتیجے میں اس پارٹی نے بعض دوسری باتوں سے تو تو بہ کی ہے مگر اس بات سے تو بہ نہیں کی اور فتح کے بعد بھی قائم ہے اس بات پر اور الیکشن میں قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو جو حقوق اپنے مذہب پر عملدرآمد کے دیئے گئے تھے ہم وہ سارے حقوق واپس لے لیں گے کیونکہ ایک ملک میں دو مذہبی حکومتیں جاری نہیں ہو سکتیں۔تو یہ تو ابھی آغاز ہے آگے آگے دیکھئے کہ ہوتا کیا ہے۔پس بہت ہی تاریخ ساز دور میں ہم داخل ہوئے ہیں جو تاریخ ساز بھی ہے اور جس کا آغاز بہت ہی بھیانک ہے اور بہت ہی دل پر ایک لرزہ طاری کرنے والا آغاز ہے۔لیکن جن کی آنکھیں ہیں وہ دیکھیں گے جن کی آنکھیں نہیں ہیں وہ اندھے مارے جائیں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کو اب بھی یہ ضرورت ہے کہ اپنے حالات پر نظر ثانی کرے۔مذہب کے نام پر ظلم اول تو بہت بڑی جہالت ہے مگر چونکہ خدا کے نام پر کیا جاتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کبھی ایسے لوگوں کو بے سزا نہیں چھوڑا کرتا۔لمبے عرصے تک ایسی قوموں کو سزائیں ملتی ہیں اور وہ ان سزاؤں میں پیسے جاتے ہیں۔یورپ کی تاریخ میں سپین کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔سپین میں عیسائیت کے نام پر اور عیسائیت کی سر بلندی کے نام پر پہلے مسلمانوں پر ظلم کئے ، پھر یہود پر ظلم کئے، پھر عیسائیت کے دوسرے فرقوں پر ظلم کئے اور اس دن کے بعد سے یہ عظیم ملک جو پہلے بہت عظیم تھا ایسا تاریکی میں ڈوبا ہے کہ آج بھی یورپ کا سب سے پیچھے رہ جانے والا ملک ہے۔یہ سوال اٹھتے رہے ہیں ، دانشوراس پر گفتگو کرتے رہے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پین کی قسمت میں ایک بدنصیبی گویا لکھ دی گئی ہے۔سارا یورپ ترقی کر رہا ہے اور یہ سب سے پیچھے رہ گیا ہے اور یہی نہیں بلکہ سپینش اثر جہاں جہاں پہنچے ہیں اُن سب کو ہی یہ ملک لے ڈوبا ہے۔Latin America جس کو کہتے ہیں وہ دراصل سپینش امریکہ ہے۔یعنی سپین کے نفوذ والا وہ جنوبی امریکہ جس پر شروع سے ہی سپین کا تسلط رہا اور اب بھی