خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 357
خطبات طاہر جلد 15 357 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء ہم اور بھی خونی انقلاب برپا کریں گے، کہتے ہیں بالکل غلط ہے۔آپ دیکھنا کہ کانگرس سے بھی بڑھ کر ہم انصاف پسند ثابت ہوں گے۔حالانکہ کل تک ان کے اعلانات یہ تھے کہ ہندوستان میں صرف ہندو کی جگہ ہے، مسلمان کی کوئی جگہ نہیں۔وہ باہر سے آ کر آباد ہونے والی قوم ہیں ان کو اپنے گھر واپس چلے جانا چاہئیے۔یا رہنا ہے تو ہمارے سامنے گردنیں جھکا کر رہنا ہوگا ، مجال نہیں کہ کوئی ہمارے سامنے گردن اٹھا کے یہاں پھرے۔تو ویسا ہی اعلان ہے جیسا پاکستان میں جماعت احمدیہ کے متعلق پہلے کیا جا چکا ہے۔کے اشارے ” چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سراٹھا کے چلے وہی رسم جو یہاں جاری تھی وہ ہندوستان میں بھی اب جاری کی جارہی ہے۔مگر احمدی بطور خاص نشانہ نہیں، تمام ہے مسلمان اس کا نشانہ بنائے جائیں گے۔یہ ان کا (فیض احمد فیض) اسر القَوْلَ ہے یعنی اسر القَولَ سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔آسر تو ماضی کا صیغہ ہے، مطلب ہے جس نے اپنے قول کو چھپایا مگر آیت میں چونکہ اس کا لفظ آیا ہے اس لئے میں اس آپ کو سمجھا رہا ہوں۔سَوَاءٍ مِنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهِ تم میں سے جو بھی خواہ بات کو چھپائے خواہ اسے ظاہر کرے۔سَوَا مِنْكُم خدا کے نزدیک سب برابر ہیں۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کہہ کیا رہے ہو، اندر سے کیا منتیں ہیں۔تو دیکھیں اس عنوان کو بدلنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔اسی کے تابع یہ مضمون بھی بڑی وضاحت کے ساتھ اور قطعی رشتوں کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے اور کیا جارہا ہے۔جو انقلاب بر پا ہورہا ہے اس میں دعاوی تو کچھ وہ تھے جو پہلے تھے ، فتح سے پہلے، وہ تو یہ تھے کہ ہم ہندوستان سے اسلام کا نام مٹادیں گے۔مسلمان اگر ہماری تہذیب اختیار کر کے، ہمارے رنگ اختیار کر کے اپنی گردنیں ہمارے سامنے جھکا کر رہے گا تو رہے گا ورنہ اسے اس ملک سے باہر نکال دیا جائے گا اور ہندو مذہب کے اوپر عمل ہوگا۔اس بات میں اہل فکر ونظر کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے اور بہت بڑا عبرت کا سامان ہے کیونکہ میرے نزدیک اس انتہا پرستی کا ذمہ دار پاکستان کا ملاں ہے۔اگر پاکستان کا ملاں نہ ہوتا تو ناممکن تھا کہ ہندوستان میں مذہبی جاہلیت اس زور کے ساتھ سراٹھاتی۔امر واقعہ یہ ہے کہ 1953ء کے فسادات کی تحقیق کے دوران اس وقت جو تحقیقی کمیشن کے