خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 355
خطبات طاہر جلد 15 355 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء ایسے ایک سیلاب کا ذکر ملتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ انذار جتنا بڑا ہو اس کے ساتھ تبشیر بھی اتنی ہی بڑی وابستہ ہوا کرتی ہے۔آج میں نے کیوں یہ مضمون چھیڑا ہے جب کہ میں نے بیان کیا کہ میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔اس لئے کہ آج کی خبروں میں ہندوستان میں رونما ہونے والے بعض واقعات جب صبح میں نے دیکھے تو معا میری توجہ اس پہلو پر گئی کہ یہ ایک بہت بڑا انذاری نشان ہے جو مسلمانوں کو ہوش دلانے کے لئے اور اپنے اعمال کو درست کرنے کے لئے دکھایا جارہا ہے۔ہندوستان میں ایک پارٹی جس کا نام بھارتیہ جنتا پارٹی ہے، ابھی حالیہ انتخاب جو ہوئے ہیں آج صبح اخبارات میں جو ان کے نتائج میں نے دیکھے تو اس وقت میری توجہ اچانک اس طرف مبذول ہوئی کہ آج کے دن یہ بھی ایک انذاری نشان کا رنگ رکھنے والا واقعہ ہے۔کبھی بھی بھارت میں ایسے نہیں ہوا تھا کہ تشدد پرست، یعنی لوگوں کی نظر میں تشدد پرست اور اپنے آپ کو وہ کہتے ہیں تشدد سے پاک ہیں، ایک خالصتا مذہبی جماعت جو ہندومت کے نام پر ابھری ہوا سے اکیلی کو باقی سب جماعتوں پر اکیلے اکیلے اگر مقابلہ کیا جائے تو اکثریت حاصل ہوگئی ہے یعنی ہندو جنتا پارٹی کو بحیثیت پارٹی ہندوستان میں سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اور کانگریس بھی پیچھے رہ گئی ہے اور نیشنل پارٹی بھی پیچھے رہ گئی ہے اور آزاد ممبران اور متفرق چھوٹی چھوٹی پارٹیاں بھی پیچھے رہ گئی ہیں۔یہ ایک بہت اہم واقعہ ہے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اور اس کے اثرات ہندوستان تک محدود نہیں رہیں گے۔لازماً اس کا اثر گردو پیش کے ممالک پر بھی پڑے گا اور خصوصیت سے پاکستان اور کشمیر پر یہ بات اثر انداز ہوگی اور کچھ تعلقات کے دائرے بدلیں گے، کچھ ایسے واقعات رونما ہوں گے جن کے نتیجہ میں ہو سکتا ہے دونوں طرف اللہ تعالیٰ عقل و فہم عطا کرے اور اپنے مذہبی جنون کو مناسب حد اعتدال تک لانے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ وہ پہلو ہیں جو انذار کے اندر سے تبشیر کے نکل سکتے ہیں۔مگر کیا ہوتا ہے؟ یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان کا ان حالات پر بھی بعینہ اسی طرح اطلاق ہو رہا ہے جیسے دوسرے مضمون پر ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ وہی ایک خدا ہے جو علِمُ الْغَيْبِ بھی ہے اور علمُ الشَّهَادَةِ بھی ہے۔وہ اس کو بھی جانتا ہے جو غیب میں ہے لیکن