خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 348 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 348

خطبات طاہر جلد 15 348 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء پیدا ہو جائے تو ساری دوسری بدیوں کا ازالہ کر دیتی ہے۔تو ایک طریق تو یہ ہے کہ اس رجس سے ان کو چھڑا ئیں جو لا ز ما جھوٹ پر منتج ہو گا اور بت پرستی کے ذریعے داخل ہوگا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الرُّورِ ایسے جس سے پناہ مانگو، دور ہٹو جو ضرور بتوں تک پہنچا دے گا اور یاد رکھو قَولَ النُّورِ سب سے خطرناک بت جھوٹی بات ہے، جھوٹ کا قول ہے ، جھوٹ کی عبادت ہے۔تو بعض دفعہ ایک سرے سے مہم چلائی جاتی ہے، بعض دفعہ دوسرے سرے سے چلائی جاتی ہے۔اب وقت ہے کہ ہر سمت سے مہم چلائی جائے۔منتیں کر کے جس طرح بھی ہو، سمجھا کر ان لوگوں کو اس گندگی سے نکالنے کی کوشش کریں اور ان کو سمجھائیں کہ ان لغویات سے منہ موڑو اور اپنا قبلہ سیدھا کرو۔خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک عظیم الشان زندگی بخش نظام جاری فرما دیا ہے۔اس میں اگر چہ ویسے گندے پروگرام تو نہیں جو ہر انسان کو اس کی نفسانی لذات کی وجہ سے فور او یسے ہی کھینچ لیں مگر ایسے پاکیزہ پروگرام ہیں جو ذوق کو بلند کریں گے اور ایسا لطف دیں گے جو باقی رہنے والا ہے۔اس کے بعد کوئی سر دردی اور کوئی نفس کی ملامت نہیں ہوتی ورنہ یہ لوگ جس گندگی سے لطف اٹھاتے ہیں ساری رات کے بعد وہ سارے دن کی سر در دی بنا رہتا ہے۔اچھے کاموں سے محروم، بیج مطالعہ سے محروم ، اپنی زندگی کے اعلیٰ مقاصد سے دور ہٹتے ہوئے اور لطف اٹھاتے ہوئے ایسی بے چینی دل میں محسوس کرتے ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ ساری گندگی ہم اپنے اندر داخل کر لیں اس سے چمٹ جائیں اور وہ چیزیں جو دور سے اچھی دکھائی دیتی ہیں ہمارے قریب آجائیں تو حسرتیں پیدا ہوتی ہیں جن کو پورا کر ہی نہیں سکتے۔وہ ایکٹر اورایکٹرسیں جو ان کی زندگی کا مرکز بن گئے ہیں ان کی تعداد اگر ان کے حواری و حواشی مواشی سارے اکٹھے کر لو تو زیادہ سے زیادہ ہیں تمہیں ہزار ہوگی ، ایک لاکھ بھی بنا لو تو ان کے پہلے دعوے دار تو ہندوستان کے ایک ارب باشندے ہیں یا ایک ارب کے لگ بھگ۔وہ ایک لاکھ ایک ارب میں کیسے تقسیم ہوں گے اور کتنے بچیں گے کہ پاکستان کے دس بارہ کروڑ کے ہاتھ آئیں اور ہو کیسے سکتا ہے کہ ان سے وہ اپنی نفسانی لذت، بھوک کی تسکین کر سکیں۔اس کا نام سراب ہے۔جس کو قرآن کریم میں دوسری جگہ یوں بیان فرمایا کہ بے وقوف اندھے دن کی روشنی میں اندھیروں کی پیروی کر رہے ہیں، ایسی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں جو ہاتھ آہی نہیں سکتیں۔پیاس کو بڑھاتی ہیں مگر پیاس کو بجھانے کی ان میں صلاحیت ہی