خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 343
خطبات طاہر جلد 15 343 خطبہ جمعہ مورخہ 3 رمئی 1996ء چینلز گندگی کی طرف بلا رہے ہیں اور اس ایک چینل کے ذکر سے بھی اس مولوی کا جس نے یہ مضمون لکھا ہے طبیعت گھبراتی ہے۔جو ایک ہے جو صرف اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلا رہا ہے اور وہ MTA ہے۔اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں، کہتے ہیں جب تک اس کو نہ مٹا دیں گے ہمیں چین نہیں آئے گا۔پاکستان ہوتا کون ہے خدا اور اس کے رسول کا ذکر سننے والا۔وہ غرق ہو جائیں بدبختیوں میں ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔دن رات ہندوا یکٹروں اور ایکٹرسوں کی پرستش کریں اور واقعہ پرستش ہے، تصویر میں لگا کر دیکھنا ان میں مگن ہونا، اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا اور پرستش کس کو کہتے ہیں۔پرستش کا نام ہے عبادت اور عبادت کا لفظ غلامی سے تعلق رکھتا ہے۔تم جس کو اپنا معبود بناؤ گے اس کی غلامی کرو گے اس کے انداز سیکھو گے ویسی شکلیں بناؤ گے۔پس جب یہ شروع ہو جائے تو اس کا نام عبادت ہی ہے کوئی اس میں مبالغہ آمیزی کا کوئی سوال نہیں اور یہ عبادت جو وہاں ہو رہی ہے جھوٹ کی عبادت ہے کیونکہ ایکٹنگ اور جھوٹ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس قرآن کریم کی اس آیت کا اطلاق ایسی وضاحت کے ساتھ پاکستان کے معاشرے کی خرابیوں کے ہر جز و پر اطلاق پا رہا ہے۔میرے تصور میں بھی نہیں تھا جب تک یہ آیت نظر کے سامنے نہ آئی اس وقت تک میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ اتنا واضح نقشہ اس بیماری کا کھینچا گیا ہے جس کے تعلق میں مجھے قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاش تھی تا کہ اس کے حوالے سے میں خطبہ دے سکوں۔اب آپ دیکھیں کہ یہ حالت اگر احمدی گھروں میں بھی داخل ہو جائے اور چاہے ہزار میں سے ایک میں ہو گئی ہو، ہو چکی ہے بعض جگہوں پہ، تو ہماری اگلی نسلوں کا کیا بنے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ دن بدن توجہ MTA کی طرف بڑھ رہی ہے اور جہاں جہاں یہ آواز پہنچی ہے جہاں جہاں یہ تصویر پہنچی ہے اس نے دلوں کی پاکیزگی کا سامان شروع کر دیا ہے۔سب سے بڑی خوشی کی خبر یہ ہے کہ ہمارے بچے تو اس شدت کے ساتھ اس سے وابستہ ہو چکے ہیں کہ جیسے انہیں Addiction ہوگئی ہو اور ہر جگہ سے یہی اطلاع ملتی ہے۔بعض جگہ بڑوں کو بچے مجبور کرتے ہیں کہ ہم نے اور کچھ نہیں دیکھنا ہمیں یہ دکھاؤ۔یہ اللہ کی شان ہے اس نے اپنے فضل سے اس ٹیلی ویژن کی محبت دلوں پر نازل فرما دی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو آپ بتائیں کہ ہم جماعت کی تربیت کے لئے کیا کر سکتے تھے۔کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔اتنے بڑے ملک میں بلکہ اتنے وسیع علاقوں میں جس میں ہندوستان بھی شامل