خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 335
خطبات طاہر جلد 15 335 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء ذکر کرنا یا بدتمیزی کرنا خدا کے حضور بہت بڑا گناہ بن جاتا ہے تو ان معنوں میں حرمت کا مضمون ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے شعائر جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حرمتیں وابستہ فرما دی ہیں وہ خواہ زندہ وجود ہوں، خواہ نشانات ہوں جن کو زندہ وجودوں نے عزت بخشی اور عظمت عطا کی، دونوں صورتوں میں ان کا احترام لازم ہے۔وَ أُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ اور تمہارے لئے انعام حلال کر دیے گئے ہیں۔اب اس مضمون کا حرمت کا جو دوسرا پہلو تھا یہ تعلق قائم کر دیا اور قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کی یہ شان ہے کہ دو مختلف مضامین کو اس طرح ایسے لفظوں سے باندھ دیتا ہے جن لفظوں میں دونوں مضامین کے ساتھ ایک طبعی تعلق ہوتا ہے۔پس حرمت کا مضمون جہاں عزت اور احترام کا ہے وہاں شعائر سے مراد اور صاحب حرمت جگہ سے مراد بیت اللہ اور خانہ کعبہ ہے اور جہاں حرام چیزوں سے اس کا تعلق ہے وہاں یہ فرمایا أُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ ان چیزوں کے سوا جو تم پر پڑھ دی گئی ہیں جن کے متعلق تمہیں تعلیم دی جاتی ہے، ان کے سوا باقی تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں۔پس کھانے پینے کی اور استعمال کی چیزوں میں بھی بعض حرام چیزیں ہیں ان سے بھی بچنا ہے مگر ان دونوں مضامین میں لفظ حرمت واحد ہونے کے باوجود ان دونوں مضامین میں بعد المشرقین ہے۔یعنی ایک جگہ حرمت سے مراد عزت کی وجہ سے اس کا ذکر احترام سے کرنا ہے، بات کرتے ہوئے خوف کھانا ہے۔آنحضرت ﷺ کے حضور جب صحابہ حاضر ہوتے تھے ان صحابہ کا ذکر محبت اور پیار سے ملتا ہے جو ادب سے اپنی آواز کو دھیما کر لیتے تھے اور جو بلند آواز سے پکارتے تھے اور حجرات سے پرے آوازیں دیتے تھے ان کا قرآن کریم نے ناراضگی کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔اور خانہ کعبہ کے گرد گھومنا، وہاں اس تقدس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ذکر الہی کرنا یہ اس کی عزت کا تقاضا ہے اور کسی قسم کی گندگی کو ساتھ نہ لے جانا اور پاک وصاف رہنا اور اپنی روح کو بھی ہر قسم کے گندے خیالات سے پاک رکھنا یہ بھی اس کی حرمت کا تقاضا ہے اور اس حرمت کے تقاضے کو گندگی دور کرنے سے جس طرح پورا کیا جاتا ہے اسی طرح ان گندی چیزوں سے دور رہنا بھی لازم ہے جو گندگی کا کوئی بھی مضمون رکھتی ہوں۔پس اللہ تعالیٰ نے حرام کے دو انتہائی معنی یہاں اکٹھے کر دیئے اور ایک مضمون سے دوسرے مضمون کے لئے لفظ حرمت کو گویائیل کے طور پر استعمال فرمایا۔