خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 334
خطبات طاہر جلد 15 334 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء تھیں جو اس مضمون سے گہرا تعلق رکھتی ہیں اور کئی طرح سے تعلق رکھتی ہیں ، ایک ہی نہیں بلکہ مختلف جہتوں سے یہ اس مضمون سے بہت ہی گہرا رابطہ رکھتی ہیں۔پس ان آیات کی تلاوت کی غرض دراصل ایم۔ٹی۔اے کے تعلق میں پیدا ہونے والے بعض خطرات کی نشان دہی کرنا تھی اور ان آیات میں اس مضمون کو اس طرح مربوط طور پر بیان فرمایا گیا کہ اور بھی بہت سے پہلو ہیں جو ذہن میں نہیں تھے وہ ان آیات کی تلاوت کے بعد سامنے ابھر آئے۔ان کا ترجمہ یہ ہے لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومت تا کہ وہ اپنے منافع کو پہچانیں " لِيَشْهَدُوا کالفظی ترجمہ تو ہے دیکھیں مگر اس طرح دیکھنا کہ گواہ بن جائیں اس میں مضمون کو پہچانے کا معنی بھی شامل ہوتا ہے، وہ اچھی طرح اس سے واقف ہو جائیں اور اپنی آنکھوں کے سامنے ان منافع کو دیکھ کر ان سے استفادہ کریں۔وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِى اَيَّامٍ مَّعْلُومَةٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ اوراللہ کا نام لیں، اللہ کا نام پڑھیں ان چند دنوں میں عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ اس پر جو اللہ تعالیٰ نے ان کو مویشیوں میں سے مختلف چوپائے عطا فرمائے ہیں۔فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَابِسَ الْفَقِيرَ۔پس اس میں سے کھاؤ اور تکلیف میں مبتلا اور فقیر کو دونوں کو جو تکلیف میں مبتلا ہوں یا ناداری کا شکار بن کر فقیر کی حد تک پہنچ گئے ہوں ان کو اس میں سے حصہ دو ثُمَّ ليَقْضُوا تَفَثَهُمْ پھر تا کہ یہ ہو کہ وہ اپنی میلوں کو دور کریں جو میل ان کے بدن کے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں اور ان کی روح کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے۔وَلْيُوفُوانُذُورَهُمْ اور اپنی مانی ہوئی منتوں کو یا نذروں کو پورا کریں۔وَلْيَطَوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ اور اس قدیم ترین گھر کا طواف کریں۔ذلِک یہ اسی طرح ہے جو بات بیان کی گئی ہے۔وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرمتِ اللہ اور جو اللہ تعالیٰ کے محرمات یعنی قابل عزت ، قابل تعظیم نشانات کی عزت کرتا ہے ان کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔حُرمت میں حرام کا ایک مضمون منفی معنوں میں بھی پایا جاتا ہے لیکن یہاں حُرمت میں ایک عزت اور احترام کا مضمون ہے اور اس کا بھی حرام کے عرف عام والے مضمون سے ایک گہرا تعلق ہے۔حرام چیز کو انسان ہاتھ نہ لگائے یہ اس کی حرمت کے مضمون میں داخل ہے اور عزت کے مقام پر بھی ہاتھ نہ ڈالے اور خدا کا تقویٰ اختیار کرے۔بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر زبان کھولنا، ان پر تخفیف کے ساتھ ان کا