خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 324
خطبات طاہر جلد 15 324 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء دکھاوے کی خاطر نہیں بلکہ اپنی سابقہ سنتی اور غفلت کے ازالے کی خاطر ایسا شخص بیدار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کثرت کے ساتھ ایسے لوگ پیدا ہونے لگتے ہیں کہ جب وہ بیدار ہوتے ہیں تو پھر دکھاوے کی خاطر علانیہ قربانی سے بات شروع نہیں کرتے بلکہ مخفی قربانی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور مخفی قربانی میں لذت پاتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو پھر خدا بعد میں علانیہ کی بھی توفیق بخشتا ہے۔مگر اگر اعلان ہی نہ ہو، اگر پتا ہی نہ ہو قوم میں کیسے کیسے قربانی کے مظاہرے ہورہے ہیں تو قوم کا ایک بڑا حصہ اپنی لاعلمی اور غفلت میں سویار ہے گا اور اسے خدا کی راہ میں قربانی پیش کرنے کی تحریک ہی نہیں ہوگی۔یہ وہ حکمت ہے جس کے پیش نظر قرآن کریم نے سڑا کے ساتھ عَلَانِيَةً کا مضمون لگایا اور آنحضرت ﷺ کے حوالے سے ایسا کیا۔قُلْ لِعِبَادِی میں یہ مضمون ہے کہ محمد رسول الله الله اعلان کریں لوگوں میں کہ اے میرے بندو! میں اسی طرح کرتا ہوں تم بھی ایسا کرو۔عبادی کہہ کر میں ایسے کرتا ہوں“ کا مضمون بیچ میں شامل کر دیا۔تم نے مجھے آقا مانا ہے، مجھے مالک بنا بیٹھے ہو۔اپنا سب کچھ میرے سپرد کر دیا ہے میرے ہاتھ پر اپنی ہر چیز کا سودا کر لیا ہے تو پھر جیسے میں کرتا ہوں ویسا تم بھی تو کرو۔میں ایمان لایا خدا پر نماز کے حق کو قائم کیا اور پھر خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہوں مخفی طور پر بھی اور کھلے طور پر بھی۔پس آنحضرت ﷺ کا ایک منفی ہاتھ تھا اور وہ ایسا مخفی ہاتھ تھا کہ حدیثوں میں اس کا ذکر تک نہیں ملتا کیسے وہ ہاتھ چلتا تھا، سوائے اللہ کے کسی کو خبر نہیں لیکن اگر وہ کھلا ہاتھ لوگوں کے سامنے نہ آتا تو صحابہ کی کثیر جماعت قربانیوں سے محروم رہ جاتی۔وہ ہاتھ جو آج تک ہمیں دعوت فکر دے رہا ہے اور قربانی کی دعوتیں دے رہا ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے ہمیں بلاوے بھیجتا ہے۔اکثر وہ کھلا ہاتھ ہے جو ہمیں دکھائی دے رہا ہے اور نبوت سے پہلے بھی آپ کا کھلا ہاتھ اسی طرح چلتا تھا۔حضرت خدیجہ سے جب آپ کا عقد ہوا ہے تو جو کچھ دولت حضرت خدیجہ کی تھی وہ آر نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈال دی اپنے لئے کچھ بھی نہیں رکھا اور جو کچھ آپ نے حاصل کیا وہ تمام تر ضرورت مندوں اور غرباء میں تقسیم کر دیا اور نہ اپنے پاس کچھ رہنے دیا نہ خدیجہ کے ہاتھ میں کچھ رہنے دیا۔ہاں وہ فن تجارت تھا جو وقتاً فوقتاً دولت کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس سے خدا تعالیٰ نے پھر اور برکتیں ڈالیں مگر یہ ایک علانیہ خرچ تھا یہ کوئی بندھا ہوا چھپا ہوا خرچ نہیں تھا۔یہ وہ خرچ ہے جس کی یاد آج تک دلوں کو کسمساتی رہتی ہے، اس کے اندر مزید قربانیوں کی تحریک پیدا کرتی الله رض