خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 25

خطبات طاہر جلد 15 25 25 خطبہ جمعہ 12 /جنوری 1996ء پس نور ایسا ہے جو رسول کی صورت میں اترا نو را ایسا ہے جس کے ساتھ ایک نورانی کتاب اتری، نورایسا ہے جو ہر اندھیرے کے خواص کے مقابل پر ایک روشنی کا جواب اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ معین رستے بیان فرماتا ہے جہاں سے چل کر بالآخر تمہارا سفرنور کا سفر ہو جائے گا۔يُخْرِجُهُم مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ بِاِذْنِهِ بِاِذْنِهِ سے وہی بات پہلے والی دوبارہ سامنے کھول کر رکھ دی کہ نبی کتاب سے تبیین کرتا ہے۔اس کتاب سے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے نور نازل فرمائے ہیں۔نبی خود نور ہے مگر پھر بھی اپنی ذات سے از خود کو ئی تعلیم نہیں دیتا۔وہ تعلیم جو قرآن کریم میں اتری ہے اسی تعلیم سے استفادہ فرماتا ہے۔پس یہ جب اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتا ہے تو ہر ایسے موقع پر باذن اللہ کی طرف سے مجاز ہوتا ہے، اللہ کی ہدایت کے تابع ایسا کر رہا ہوتا ہے اس لئے اس کے پیچھے چلنے میں کوئی خوف نہیں ہے۔کوئی خطرہ نہیں ہے۔جو خود بھی نور ہو ، جس کی ہدایت کی کتاب بھی نور ہو، جو ہر قدم پر اللہ کی راہنمائی اور اجازت سے اقدام کرتا ہے۔اس سے زیادہ محفوظ را ہنما دنیا میں ممکن ہی نہیں ہے پس یہ ہے آنحضرت مﷺ کا نزول نور کے طور پر اور قرآن اور بنی نوع انسان سے آپ کے تعلق کے مضمون میں یہ آیت بہت ہی حیرت انگیز طور پر جامع اور مانع ہے مگر ایک پیغام ہے ، ایک ہدایت ہے، اے اہل کتاب ایسا کرو کیونکہ تمہارے پاس وہ رسول آچکا ہے۔اس لئے رسول سے مراد وہ رسول ہے جس کا ذکر اہل کتاب کے صحیفوں میں ملتا ہے۔جب الکتب کہتے ہیں تو ایک کتاب مراد نہیں ہے۔بظاہر عنوان الكتب ہی کا دیا جاتا ہے مگر وہ کتاب جس کو Old Testament کہا جاتا ہے اس میں کئی صحیفے ہیں، کئی کتب ہیں۔پس الکتب میں وہ ساری کتب شامل ہیں اور ان سب کتب میں کسی نہ کسی رنگ میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی موجود ہے۔اب اس کے نتیجے میں کیا واقعہ ہوا؟ کیا کسی نے قبول کیا؟ اگر کیا تو اس کو خدا نے اس کا کیا اجر دیا یہ جواب ہے جو سورۃ الاعراف آیت 158 میں بیان ہوا ہے اور الاعراف میں اس کا بیان ہونا بہت ہی ایک لطیف شان رکھتا ہے کیونکہ الاعراف وہ سورۃ ہے جس میں یہ پیش گوئی فرمائی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھی جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک بہت ہی بلند مقام پر فائز ہوں گے اور آنے والوں کو ان کے چہرے دیکھ دیکھ کر پہچانیں گے۔ان کو دیکھتے ہی معلوم ہو جائے گا کہ یہ جہنمی لوگ ہیں یا جنتی لوگ ہیں