خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 302

خطبات طاہر جلد 15 302 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء اس مضمون میں یہاں پائے جاتے ہیں۔انھكُمُ التَّكَاثُرُ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جنون تم پر سوار ہو چکا ہے اس نے تمہیں اپنے مفادات سے، اپنے مقاصد سے بالکل غافل کر دیا ہے اور ہلاک کر دیا ہے۔حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِر یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کرنے لگے۔اب جو قبروں کی زیارت کرنا ہے یہ بھی بہت ہی دلچسپ محاورہ ہے اس میں دونوں معنی بیک وقت پائے جاتے ہیں یعنی کم سے کم دو معنی بیک وقت پائے جاتے ہیں۔ایک یہ کہ تم اپنے اموال اور اولاد، اپنی طاقت، سیاست اور اپنی اقتصادیات کو ترقی دینے کی خاطر اتنے گر چکے ہو کہ قبروں سے بھی مانگنا پڑے تو نہیں رکو گے اور قبروں سے بھی مانگو گے اور امر واقعہ یہ ہے کہ ان معنوں میں بعینہ یہی صورتحال تیسری دنیا پر مسلط ہو چکی ہے۔مذہب چاہے اسلام ہو یا ہندو ہو یا جو مذہب کا نام رکھ لیں۔ان میں بعضوں میں عقیدہ ، بعضوں میں تو ہمات کے رنگ میں مردہ پرستی شروع ہو چکی ہے، مردوں سے مانگنے کا رجحان ہے اور یہ جو مردہ پرستی ہے اس نے جاپان کو بھی خالی نہیں چھوڑا اور کوریا کو بھی اور چین کو بھی خالی نہیں چھوڑا۔آباؤ و اجداد کی روحوں کے سامنے سر جھکانا اور ان سے امیدیں وابستہ کرنا اب یہ روز مرہ کا بڑھتا ہوا فیشن ہے اور ہمارے ملک میں آپ دیکھیں داتا کے دربار پہ پہنچ جاتے ہیں۔جن کو اپنے گھروں میں خدا کے حضور سر ٹیکنے کا موقع نہیں ملتا، جورا توں کو اٹھ کے اس کے حضور سجدہ ریز ہونا جانتے ہی نہیں، وہ دن کی روشنی میں لوگوں کے سامنے داتا کے دربار پہنچتے ہیں اور دو مقاصدا اپنی طرف سے حاصل کرتے ہیں۔اول اپنے لئے اموال ان سے طلب کرتے ہیں دوئم اپنے لئے اولا دان سے طلب کرتے ہیں۔اپنی سیاست ان سے مانگتے ہیں اور اس دکھاوے کے ذریعے کہ ہم نے داتا کے دربار پر چادر چڑھائی ہے عوام سے بھی اپنی ہر دلعزیزی کی بھیک مانگتے ہیں۔کہتے ہیں اگر تم نے ہم میں اور کچھ نہیں دیکھا تو یہ تو دیکھو کہ وہ مردے جن سے تم مانگتے ہو ہم بھی انہی سے مانگ رہے ہیں اور اتنا احترام ہے تمہارے مذہبی جذبات کا ہمیں کہ آگے پیچھے کبھی توفیق ملے نہ ملے مگر اب ہم جب کہ حکومت پر قابض ہو گئے ہیں یا ہونے والے ہیں۔تو دیکھو حضرت داتا کے دربار پر جا کر ان کے سامنے ماتھے ٹیک رہے ہیں ان پر چادریں چڑھا رہے ہیں تو بھیک ہے ، سوائے خدا کے ہر طرف بھیک ہی بھیک۔دائیں طرف بھی بھیک ، بائیں طرف بھی بھیک ،عوام سے بھی بھیک، بڑے لوگوں سے بھی بھیک، اور مردوں سے بھی تو زُرتُمُ الْمَقَابِرَ کا اس سے بہتر نقشہ اور کیا ہوسکتا