خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 298

خطبات طاہر جلد 15 298 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء دوسروں سے زیادہ اپنے آپ کو دکھا نہ لے اس وقت تک اس کے نفس کو تسکین نہیں ہو سکتی۔اب یہ Social evil میں تبدیل ہو گئی ہے۔جو پہلے ذاتی نقص تھا اب یہ تمدنی اور سوشل نقص میں تبدیل ہو گیا اور ان کی جو دو باتیں ایک بریکٹ میں بیان فرمائی گئی ہیں ان کا تعلق انسانی اقتصادیات اور سیاست سے ہے۔تَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ کا تعلق انسانی اقتصادیات سے ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ایسا رابطہ رکھتی ہیں کہ گویا با ہم چولی دامن کا ساتھ ہے، ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ جوڑے بھی خوب بنائے ہیں ایسے جن کو ایک دوسرے سے الگ کیا جاہی نہیں سکتا۔جب سیاست انسانی دماغ پر قابض ہو جائے ، جب قوموں کے اجتماعی دماغ پر قبضہ کر لے تو یہ سیاست محض اپنے رعب کو دنیا پر قائم کرنے کے لئے نہیں ، اپنی بڑائی کو قانونی طور پر اپنے اہل وطن پر مسلط کرنے کے لئے نہیں بلکہ ہر قسم کی دولت کمانے کا ذریعہ بن جاتی ہے اور یہی سیاست جب بین الاقوامی سطح پر سر اٹھاتی ہے تو اس کے ساتھ دولت کا کمانا ایک لازمی جزو ہے اس کو الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ انگریزوں سے یعنی انگریزی حکومت سے آزادی کا گر ان لوگوں کو کسی کو بھی علم نہیں جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اور انگریزوں کے خلاف نفرت کی تعلیم دیتے ہیں کوئی ہتھیاروں کے ساتھ انگریزوں کے خلاف بغاوت کی تعلیم دیتے ہیں کوئی عدم تعاون کے ساتھ جیسے گاندھی جی کی تحریک تھی ان کو اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کی تحریک کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا ایک ہی طریق ہے کوئی دنیا کی قوم اپنی سیاست کو دوسری قوم پر غالب کر کے محض یہ لطف نہیں لیا کرتی کہ ہم حاکم ہیں جب تک اس کے نتیجے میں اس ملک کی دولت ان کے ملک میں منتقل نہ ہو۔اگر کسی ملک کی دولت کسی ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل ہونا بند کر دے تو کوئی پاگل نہیں ہے کہ وہاں جا کر کوئی سیاسی نظام اپنا جاری کرے اور محض اس وجہ سے کہ ہماری سلطنت بڑی ہوگئی ہے سیاسی غلبے کو جاری رکھنے کی فطرت اجازت ہی نہیں دیتی کیونکہ کچھ دیر کے بعد یہ مصیبت بن جاتی ہے۔نظم و ضبط قائم رکھنا، اپنے خرچ پر قائم رکھنا کسی اور جگہ جا کر ایسی قوم پر اپنی حکومت جتانا جس قوم کو تمہاری حکومت پسند نہیں ہے اور نتیجے مالی لحاظ سے کوئی بھی فائدہ نہیں۔کبھی بھی دنیا میں ایسی سیاست زیادہ دیر چل نہیں سکتی تو میں خود ہی اپنا بور یا بستر لپیٹتی ہیں اور ایسے ملکوں کو چھوڑ دیتی ہیں۔