خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 297
خطبات طاہر جلد 15 297 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء میوزک سننی ہے اپنی مرضی کے پروگرام دیکھو لیکن ساتھ والوں کو نقصان نہ پہنچے۔پس لھو اور لَعِب کا جو آغاز ہے وہ نفسانی، ذاتی خواہشوں سے تعلق رکھتا ہے اور دوسروں سے متصادم نہیں ہے پھر یہ چیز پھوٹ کر باہر نکلتی ہے اور زینت اور تفاخر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔زینت کا اختیار کرنا یہ بھی ہر انسان کی فطرت میں ہے لیکن جب وہ زینت دکھا وا بن جائے تو پھر تفاخر کے رنگ میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ہر وہ نعمت جو خدا تعالیٰ نے ایسے انسانوں کو دی ہے وہ خدا کا شکر کرنے کی بجائے انہیں اپنا فخر دوسروں پر ظاہر کرنے پر آمادہ کرتی ہے اور خدا کے سامنے سر جھکانے کی بجائے وہ لوگ لوگوں کے سامنے سراٹھانے لگتے ہیں تو یہ تفاخر ہے یعنی جس ذات نے دی تھیں، جو نعمتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے میسر آئیں بجائے اس کے کہ ان نعمتوں کے شکر پر سراس کے حضور جھکتا چلا جائے اس کے عاجز اور کمزور بندوں پر اٹھتا چلا جاتا ہے اور یہ تفاخر جو ہے یہ ہمیشہ نچلوں پر ہے۔یہ لفظ تفاخر میں ایک داخل بات ہے جو اپنے سے بڑے ہوں ان کے سامنے کوئی تفاخر کیسے کر سکتا ہے ان کی مجلس سے تو دور رہے گا تاکہ ان کے سامنے سبکی نہ ہو۔جو غریب لوگ نسبتا کمزور لوگ ہیں ان کے سامنے دکھاوے ہوتے ہیں یا برادری کے لئے بھی دکھاوے ہوں تو جب تک ان سے زیادہ خرچ کر کے ان سے زیادہ دکھا وانہ ہو اس وقت تک ان کا سر اونچا ہو ہی نہیں سکتا۔پس اپنا جھوٹا سر اونچا کرنے کی خاطر وہ اپنی آئندہ اولادوں کے سر ہمیشہ کے لئے نیچے کر دیتے ہیں۔قرضوں میں جکڑے جاتے ہیں، جائیدادیں بک جاتی ہیں بجائے اس کے کہ دنیا ان کی تعریف کرے کہ واہ واہ انہوں نے خوب کیا چند دن کی اس تعریف کے بعد پھر لعنتیں پڑنے لگتی ہیں کہ اس نے تو جو کچھ ورثے میں پایا تھاوہ بھی گنوا دیا کچھ بھی باقی نہ رکھا تو یہ بھی ایک اندھیرے کی بڑی خوفناک قسم ہے مگر جب یہ آگے بڑھتی ہے تو سب سے زیادہ خطرناک اور سب سے زیادہ آخری شکل جو اس کی بنتی ہے وہ ہے تَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ (الحديد :21 )۔اب تدریج دیکھیں کیسی عمدہ اور متناسب تدریج ہے۔ایک نفس کے اندھیرے نے نفس کو ایک سایہ مہیا کیا اور اس سائے تلے نفس نے آرام پایا لیکن جب وہ گہرا ہو گیا تو رستہ دیکھنے کی صلاحیت سے بھی اس کو عاری کر دیا۔پھر وہی چیز آگے بڑھی تو اپنی نعمتوں کو دکھانے پر منتج ہو گئی اور اکیلا اپنی ذات میں انسان سکون پا ہی نہیں سکتا پھر جب تک دوسروں کے اوپر وہ فخر نہ کر لے جب تک