خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 296
خطبات طاہر جلد 15 296 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء خوش کر دیتی ہے لیکن انجام کار پھر اس پر ایک ایسا دور آتا ہے وہ زرڈ رو ہونے لگتی ہے اور خشک ہو کر ایسے پورے کی طرح جو پاؤں تلے روندا جاتا ہے اس حالت میں وہ اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔یہ وہ مثال ہے جس کے متعلق میں اس آیت کے پہلے حصے کے مختلف امور پر یا مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے بعد پھر متوجہ ہوں گا۔میں ذکر کر رہا تھا کہ اول ہے لَعِب اور لَھو ، اسی سے ہر قسم کی دنیاداری کا آغاز ہوتا ہے۔کھیل کو تماشہ ایک معصوم سی چیز دکھائی دیتی ہے انسانی فطرت کے ساتھ اس کا ایک گہرا تعلق ہے بچے بھی اپنا دل کھیل کو دہی میں بہلاتے ہیں۔لیکن جوں جوں جوانی کے ساتھ ساتھ کھیل کو دانسانی مزاج پر غلبہ پانے لگتے ہیں تو ان کے اندر گناہوں کی آمیزش ہونے لگتی ہے۔کھیل کود کا انسانی مزاج پر غلبہ اس کو اعلیٰ مقاصد سے غافل کرتا چلا جاتا ہے اور تو جہات کو تمام تر اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے یہاں تک کہ وہی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے جو زندگی کا مقصد نہیں ہے۔اس پہلو سے میں نے متوجہ کیا تھا کہ اپنے بچوں کو بھی اس پہلو سے بر وقت متنبہ کرتے رہا کریں۔جہاں ان کی دلچسپیاں کھیل کود میں اتنی بڑھ جائیں کہ ان کی زندگی کے اعلیٰ مقاصد کی راہ میں حائل ہونے لگیں ، جہاں پڑھائی اور تعلیم ثانوی ہو جائے اور زندگی کے دنیا کے تماشے جو ہیں یہ بنیادی اور اصل مقصد بن جائیں ایسے بچے ایسی جوان نسل میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے اپنی منزل کھو دیتی ہے اور غلط سمت میں روانہ ہو جاتی ہے۔یہ اگلا قدم جو تھا اس کے متعلق میں نے گزشتہ خطبے میں روشنی ڈالی یہ پھر زینت اور تفاخر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔دیکھیں لھو اور لَحِب کا اپنی ذات سے تعلق ہے۔ایک انسان کسی چیز کو پسند کرے اس میں کھویا جائے کوئی بیٹھا اپنا ٹیلی ویژن دیکھ رہا ہے تو کسی کا کیا لیتا ہے۔اس کا کسی اور کے ساتھ کوئی تصادم نہیں، کوئی ٹکراؤ نہیں، کوئی مقابلہ نہیں۔ایک انسان جوان باتوں میں مثلاً میوزک ہے اس میں بھی مگن رہتا ہے تو وہ کہتا ہے تمہیں اس سے کیا میں اپنا وقت خرچ کر رہا ہوں اپنا پیسہ لگارہا ہوں اور اگر شور پڑتا ہے تو اپنے کان میں وہ ٹوٹیاں دے دیتے ہیں اور جہازوں میں بھی بجائے اس کے کہ ان پر یہ اعتراض ہو تم نے سب کا امن برباد کر رکھا ہے شور ڈالا ہوا ہے وہ آرام سے اپنی ٹوٹی اپنے کان میں لگا لیتے ہیں اور جہاز والوں نے بھی اب سب کو ٹوٹیاں مہیا کر دی ہیں۔ٹیلویژن دیکھنا ہے،