خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد 15 24 خطبہ جمعہ 12 /جنوری 1996ء رستوں کی طرف کیوں ہدایت دیتا ہے۔یہ مضمون خوب کھل گیا اور مسئلہ حل ہو گیا۔فرمایا کہ مختلف سلام کے رستوں پر ان کو چلاتے ہوئے صراط مستقیم تک پہنچا دیتا ہے اور صراط مستقیم تک پہنچنا ہی نور پانا ہے۔پس جو بھی اندھیروں سے نکلتا ہے وہ یک دفعہ ایک دم صراط مستقیم پر نہیں آ جایا کرتا۔جو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے جستجو شروع کرتا ہے آنحضرت ملے جو اللہ کے نور کے نور ہیں وہ اپنی روشنی کے پیچھے پیچھے ان کو چلاتے ہیں اور وہ روشنی ہمیشہ سلامتی کے رستوں پر چلاتی ہے کیونکہ جور ستے روشن ہوں ان میں ٹھوکر کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔جن رستوں پر اندھیرے ہوں یا سائے ہوں کچھ نہ دکھائی دینے والے خطرات چھپے ہوئے ہوں ان کو سُبُلَ السّلام نہیں کہا جا سکتا۔الله پس سُبُلَ السَّلمِ کا ایک تعلق ظلمات کے جمع ہونے سے ہے۔ظلمات کا لفظ جمع میں استعمال ہوا ہے یعنی مختلف قسم کے انسان مختلف قسم کے اندھیروں میں مبتلا ہیں۔کچھ شرک کے مختلف اندھیروں میں مبتلا ہیں، کچھ بالعمد گناہ کے، کچھ دہریت کے اندھیروں میں مبتلا ہیں، کچھ نفس کی اندرونی کمزوریوں میں طرح طرح سے اس طرح گھرے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنے کی راہ نہیں پاتے ، یہ سب ظلمات ہیں۔ہر ظلمت سے نکلنے کی ایک الگ راہ سلام ہے اور ہر راہِ سلام پر محمد رسول الله روشنی ڈال رہے ہیں۔یعنی کوئی بھی ایسی پیچیدگی نہیں جس میں انسان گھیرا گیا ہو، جس سے نکلنے کی راہ نہ پاتا ہو مگر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ہر ایسے موقع پر ہدایت کی راہ دکھائی ہے اور وہ راه سلامتی کا رستہ ہے۔اس راہ کو اختیار نہیں کرو گے تو خطرات میں گھرے رہو گے۔اس راہ پر نہیں چلو گے تو ان خطرات کا لقمہ بن جاؤ گے ، ان کا نشانہ ہو جاؤ گے اور یہ جو سلامتی کی راہ ہے یہ محض خطروں سے بچانے کی خاطر نہیں بلکہ نور کی طرف لے جانے اور صراط مستقیم تک پہنچانے کے لئے اختیار کرنی ضروری ہے۔اس لئے کس طرح رفتہ رفتہ انسانی نفس میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔کس طرح وہ مختلف خطرات کے چنگل سے نکل کر آخر صراط مستقیم تک پہنچتا ہے۔اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ یہ تب ہی ممکن ہے اگر تم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرو اور اپنی ہر خامی کے مقابل پر وہ تعلیم ڈھونڈ و جس میں اس خامی کا علاج ہے اور ایک بھی انسانی کمزوری ایسی نہیں ، ایک بھی انسانی ظلمت ایسی نہیں ہے جس کے مقابل پر آنحضر طور پر سہارا نہ دے رہے ہوں اور معین طور پر روشنی نہ ڈال رہے ہوں۔