خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد 15 23 23 خطبہ جمعہ 12 /جنوری 1996ء سے استفادہ کرتے ہوئے ان مضامین کو کھولتا ہے۔یهْدِى بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلمِ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ، اب ضمیر ساری رسول کی طرف ہی پھیری جارہی ہے آغاز ہی سے رسول کے مضمون کو اول طور پر اٹھایا گیا ہے۔یهْدِى بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ اللہ اس رسول کے ذریعے ، اس نور کے ذریعہ ، جو آسمان سے اترا ہے ہدایت دیتا ہے مَنِ التَّبَعَ رِضْوَانَہ اس کو جو اللہ کی رضا چاہتا ہے۔اب جہاں رضوان کا تعلق ہے وہاں رسول کی رضوان کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ رسول کی رضا کامل طور پر اللہ کی رضا کی تابع ہوتی ہے اور رضوان چاہنے میں رسول پیش نظر نہیں بلکہ اللہ پیش نظر ہوتا ہے۔جو اللہ کی رضا چاہے اس سے اللہ بھی راضی ، اس کا رسول بھی راضی ، اس پر دیگر تمام ایمان لانے والے بھی راضی ہو جاتے ہیں۔اس لئے یا درکھیں تقویٰ کا فیصلہ رضوان اللہ سے ہوا کرتا ہے اور اللہ کے نمائندوں کے حوالے سے تقویٰ نہیں ہوا کرتا۔تقویٰ صرف خدا کا ہے اور اس مضمون میں تقویٰ اور نور در اصل ایک ہی چیز کے دو نام دکھائی دیتے ہیں مگر اس معاملے میں شاید میں کچھ باتیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں سر دست میں ایک دوسرے پہلو سے آپ کے سامنے یہ آیات رکھ رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہ جو اللہ کی رضا چاہتا ہے اس کو محمد رسول اللہ ہے ہدایت دیتے ہیں سُبُلَ السّلم سلامتی کے رستوں کی طرف۔اب سوال اٹھتا ہے کہ راستہ تو ایک ہی ہے جس کی طرف دعا سکھائی گئی کہ اے خدا ہمیں اس رستے کی طرف ہدایت دے وہ ہے اِھدِنَا الصَّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ (6) سیدھے رستے کی طرف جس پر انعام یافتہ لوگ سفر کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے چلنے کی ہمیں توفیق بخش۔یہاں اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے يَهْدِى بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ، جو بھی اللہ کی رضا چاہتا ہے اس کو یہ رسول ہدایت دیتا ہے سُبُلَ السَّامِ سلام کے رستوں کی طرف لیکن کیوں ان سلام کے رستوں کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ان کی اپنی منزل کس طرف ہے۔فرمایا وَ يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وہ ان کو مختلف قسم کے اندھیروں میں سے نکالتا ہے نور کی طرف بِاِذْنِ اللہ کے حکم سے يَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مستقیم اور انہیں ہدایت دیتا ہے صراط مستقیم کی طرف تو وہ جو رستوں کا زیادہ ہونا ذہن میں تعجب پیدا کر رہا تھا کہ قرآن کریم تو ایک صراط مستقیم ہی کی طرف بلاتا ہے، اللہ کا رسول مختلف سلام کے