خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 292
خطبات طاہر جلد 15 292 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء والے شیطان نہیں ہیں، یہ مجبوریوں کے شیطان ہیں۔اس کی مثال یہ ہے کہ جب گزشتہ خطبے میں نماز جنازہ کے وقت میں نے یہ کہا تھا کہ ہماری آپاز بیده مرحومہ جن کی میں نے نماز جنازہ پڑھائی تھی یہ مرزا اظہر احمد صاحب ہمارے بھائی کی ساس ہیں تو یہ بھی ایک قسم کی ایک غلطی تھی۔ان کی ساس تو آپا حمیدہ ہوا کرتی تھیں۔یہ دونوں بہنیں تھیں۔اور مجھے پتا ہے لیکن چونکہ خطبے میں دماغ ایک خاص مضمون میں الجھا ہوا ہوتا ہے اچانک اس سے نکل کر دوسری طرف جا کر پوری طرح اس کو دیکھ لینا یہ بسا اوقات ممکن نہیں ہوتا۔تو خیالات کو ایک دم تبدیل کر کے دوسرے مضمون کو فوکس کر کے دیکھ لینا ایک طبعی مجبوری ہے کہ بعض دفعہ نہیں ہوتا۔تو مجھے اچھا بھلا پتا تھا آپا حمیدہ بہت شفقت کرنے والی تھیں اور ہمارے گھر تو ان کا بہت ہی آنا جانا تھا کیونکہ میری والدہ سے تعلق کی وجہ سے وہ بہت ہم سے پیار کرتی تھیں۔ان کی بیٹی ہیں ہماری قیصرہ بیگم جو میاں اظہر کی بیوی ہیں اور ان کے دو بھائی اور بھی ہیں شہزاد اور انیس، انہیں تو کینیڈا میں ہے اور کرنل شہزاد پتا نہیں امریکہ میں ہیں یا کہاں ہیں۔مگر بہر حال یہ ساری اولاد ہی اللہ کے فضل سے جماعت سے گہرا تعلق رکھنے والی ہے۔آپاز بیدہ ان کی چھوٹی بہن تھیں جو بیگم سردار بشیر احمد صاحب مالیر کوٹلوی تھیں۔اس خاندان کا تعارف میں نے پہلے اس غرض سے کروایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو الہاما ان کے بعض مراتب بتائے گئے اور فرمایا گیا کہ یہ بھی اپنے اخلاص میں اتنی غیر معمولی ترقی کر چکے ہیں کہ گویا اہلِ بیت میں سے ہیں اور ان کی دل جوئی کی جائے ، ان کا خیال رکھا جائے۔تو ان کے جو دادا تھے محمد خان صاحب انہی کی خاطر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود نرمی کے سلوک کا حکم دیا ہے اس لئے جہاں بھی موقع مل سکے ان کا ذکر خیر چلانا یہ بھی کار ثواب ہے۔یہ عبدالمجید خان دو ہیں۔ایک محمد خان صاحب کے بیٹے اور ایک عبد المجید خاں دیر ووال والے۔عبد المجید خاں صاحب جو دیر و وال والے ہیں یہ آپا طاہرہ صدیقہ کے والد اور اسی طرح نصیر خان صاحب مرحوم کے والد اور عبدالمجید خان صاحب کے خسر بھی عبدالمجید خاں تھے اور عبدالمجید خان صاحب کے خسر جو عبدالمجید خان تھے وہ محمد خان صاحب کے صاحبزادے تھے۔تو وہ پہلی بیوی تھیں یعنی عبدالمجید خان صاحب ویر و وال والے جن کو ربوہ کے تو اکثر لوگ جانتے ہیں باہر کے بھی جانتے ہیں پروفیسر نصیر خاں صاحب کے والد ان کی شادی محمد خاں صاحب کی پوتی سے ہوئی تھی اور