خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 291
خطبات طاہر جلد 15 291 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء ہے۔وہ سمجھتا ہے یہ سارے میرے نفس کے سامنے سر جھک رہے ہیں۔تو وہ دراصل اپنی عبادت کا مزہ اٹھا رہا ہے اور جو اپنی عبادت کرواتا ہے اور اپنی عبادت کرتا ہے اس کے مقدر میں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی شکلیں ہیں جو میں انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ خطبے میں آپ کے سامنے پیش کروں گا اور یہ بہت اہم مضمون ہے اندھیروں کی نوعیت کو سمجھنا اور ان کی نشاندہی کرنا۔اگر آپ اندھیرے دیکھنے لگ جائیں تو روشنی کیوں نظر نہیں آئے گی آپ کو اندھیرے سمجھ آئیں گے تو پھر روشنی سمجھ آئے گی۔ان سے بچ سکتے ہیں تو پھر روشنی کی طرف رخ کریں گے۔پتا لگے گا کہ کون سے پردے پڑے ہوئے ہیں جو کانوں پر بھی ہیں، آنکھوں پر بھی ، دل کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔پھر آپ کو تدبیر سمجھ آئے گی کہ کیسے ان سے نجات حاصل کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یہ مضمون بظاہر باریک ہے مگر باریک نہیں بہت موٹا مضمون ہے۔پہلی کہانی کے خدوخال ہی ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔قرآن کریم اٹھالیں کہانی ہی آدم اور شیطان اور فرشتوں کی باتوں سے شروع ہوتی ہے لیکن عجیب کہانی ہے چند لفظوں میں بیان ہوئی اور ساری انسانی تاریخ کو ڈھانپ لیا اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ساری انسانی تاریخ پر حاوی ہوگئی۔یہ ہے وہ کہانی جس سے بہتر کبھی کوئی کہانی نہ بنائی گئی، نہ بنائی جاسکتی ہے اور حقائق پر مبنی کہانی ہے اپنے آپ کو دہرانے والی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کی بظاہر جو باریکیاں ہیں ان کو ایسے دیکھیں جیسے آنکھوں کے سامنے کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔آمین اب اندھیرے بھی کئی قسم کے ہیں۔نفس انسان کو بعض باتیں بھلا دیتا ہے اور اس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے شیطان نے بھلا دیا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا انبیاء کو شیطان نہیں بھلایا کرتے وہاں شیطان سے مراد نفس کے اندر جو بشری کمزوریاں ہیں وہ مراد ہوتی ہے۔آنحضرت ﷺ بھی بھولتے رہے۔ثابت ہے قطعی طور پر۔مگر کوئی شیطان نہیں تھا جو آپ پر غالب آ سکتا۔آپ کے تو نفس کا شیطان بھی مسلمان ہو چکا تھا۔اس لئے وہاں شیطان سے مراد صرف اتنی ہے کہ نفس کے اندر مخفی جو خدا تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھی ہیں بھول چوک مثلاً ، ایک بات پوری طرح نہ دیکھ سکے، بعض دفعہ غلطی سے لوگوں کے کہنے پر غلط فیصلے بھی ہو جاتے ہیں تو یہ سارے وہ شیطان ہیں جو گناہ