خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد 15 290 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء شیطان نہیں کئی شیاطین لگ جاتے ہیں۔ان کے ارد گرد جو ٹولہ ہے وہی ان کی بڑی تعریفیں کر رہا ہوتا ہے۔کہتا ہے واہ جی واہ کوئی خرچ سیکھے تو آپ سے سیکھے۔کیا بات ہے آپ نے تو مہمان نوازی کی حد ہی کر دی اور اس طرح آپ نے خرچ کیا اور بڑی شہرت ہوئی۔آپ نے جو اپنی بیٹی کی شادی کی ہے بہت ہی مشہور ہوئی ہے کتنے لوگ باتیں کر رہے ہیں۔کہتے ہیں بلے بلے شادی ہو تو یوں ہو اور اس طرح پاگل بنا بنا کے ان کی جائیدادیں بکوا دیتے ہیں، ان پہ قرضے چڑھوا دیتے ہیں اور جب سب کچھ ہاتھ سے جاتا ہے تو آپ بھی ہاتھ سے چلے جاتے ہیں۔پھر وہ اگر ان کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو دوسرے دروازے سے باہر نکل جائیں گے۔یہ شیاطین ہیں۔اور شیطان کی جہاں خصلت کی بات کی گئی ہے وہاں اکیلا شیطان استعمال فرمایا۔ایک شیطان ہوں یا دو ہوں یا دس ہزار ہوں شیطان کی خصلت یہ ہے کہ اپنے رب کا ناشکرا ہوا کرتا ہے۔اور کسی چیز کو محل پر نہ خرچ کرنا یہ بھی ناشکرا اپن ہے۔بے محل استعمال کرنا یا جتنی طاقت ہے اس سے بڑھ کر استعمال کرنا یہ بھی ناشکر اپن ہے۔شیطان نے جتنی صلاحیتیں خدا نے اس کو دی تھیں ان کو بے محل استعمال کیا یہ اس کا ناشکرا پن تھا ورنہ صلاحیتیں بہت تھیں۔تھا تو آگ سے پیدا ہوا ہوا لیکن یہ صلاحیتیں نہ ہوتیں تو ساری دنیا پر اپنے دھو کے کے ذریعے اتنا بڑا کنٹرول، اتنا عروج کیسے حاصل کر لیتا۔اکثر خدا کے بندے جو اصل میں اس کے بندے نہیں تھے ان پر قبضہ کر بیٹھا ہے اور دنیا کو فساد سے بھر دیا ہے اور فرشتوں بے چاروں کا صرف اتنا قصور تھا کہ فساد سے شیطان نے بھرنا تھا، فرشتے سمجھ رہے تھے آدم بھرے گا۔انہوں نے دنیا کو فساد سے بھرنا تھا جنہوں نے آدم کی اطاعت سے انکار کرنا تھا اور آدم نے تو دوبارہ اس حالت کو بدلنے کی ایک کوشش کرنی تھی۔وہ جو منکرین ہیں جو ناشکرے ہیں انہیں واپس اقرار اور شکر کے مقام پر لا کے کھڑا کرنا تھا۔تو یہ کہانی جو ازل سے چلی آرہی ہے ازل (ازل کا لفظ سہوا بولا گیا ہے غالباً ابد مراد ہے) تک اسی طرح جاری رہے گی۔جب تک دنیا، زمین و آسمان قائم ہیں یہی کچھ ہم ہوتا دیکھتے آئے ہیں، یہی کچھ ہوتا رہے گا اور یہ اندھیرے علم کے اندھیرے ہیں اور روشنیوں کے اندھیرے ہیں۔وہ شخص جو اسراف کر رہا ہے آنکھیں اس کی کھلی ہیں وہ دیکھ رہا ہے کہ کتنا مجھے مزہ آ رہا ہے، کتنی میری شہرت ہو رہی ہے، کتنی میری ناموس بڑھ رہی ہے۔کیوں اس کا مزہ آ رہا ہے؟ نفس کی عبادت ہو رہی