خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 289

خطبات طاہر جلد 15 289 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء اِلهَهُ هَولہ کا مضمون یہاں بھی کارفرما ہے۔مگر ابنَ السَّبِيلِ بھی ہے تو اس کا بھی خیال رکھو ہر مسافر کا تم پر حق ہے۔لیکن یہ یاد رکھنا وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا کہ جتنی طاقت ہے اس سے آگے نہیں بڑھنا کیونکہ اگر تم نے طاقت سے بڑھ کر خرچ کیا تو خدا کی خاطر یہ خرچ نہیں ہوگا یہ نفس کی خاطر ہوا کرتا ہے۔جو خدا کی خاطر خرچ کرتے ہیں وہ اپنی طاقت سے بڑھ کر نہیں کیا کرتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے قانون بنایا ہے کہ جتنا میں تمہیں دیتا ہوں اس سے زیادہ میں مانگتا ہی نہیں۔تو اگر خدا کا قانون یہ ہے کہ جتنا میں تمہیں دوں اس سے زیادہ میں مانگتا ہی نہیں تو آپ کون ہیں جو خدا کے دیئے ہوئے سے بڑھ کر اسے دینے کی کوشش کریں۔اس لئے ہر وہ خرچ جو طاقت سے بڑھ کر ہے وہ شیطان کی راہ کا خرچ ہے اور وہ ثابت کر دیتا ہے کہ خدا کا یونہی نام تھا اصل میں نفس کی خاطر خرچ ہورہا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا دیکھو حد سے زیادہ اسراف سے کام نہ لینا کہ کھلے خرچ کرتے پھرو،اس بہانے کہ خدا نے فرمایا ہے اقرباء کے لئے خرچ کرو مسکینوں کے لئے خرچ کرو مسافروں کے لئے خرچ کرو بعض لوگ سبیلیں لگوادیتے ہیں اور کئی قسم کے ایسے کام کرتے ہیں۔اگر یہ تمہاری توفیق سے بڑھ کر ہوا اور حد سے زیادہ ہوا اور توازن بگڑ گئے تو فرمایا اِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا اِخْوَانَ الشَّيْطِيْنِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا ( بنی اسرائیل: 28) پھر تو شیطان کے دھوکے میں آگئے اس کے چنگل میں پھنس گئے کیونکہ مبذر شیطان کا بھائی ہوتا ہے۔اِخْوَانَ الشَّيْطينِ یعنی کئی قسم کے شیطانوں کا بھائی ہوتا ہے۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اسی آیت میں ایک جگہ شیطان فرمایا ہے ایک جگہ شیاطین فرمایا ہے۔اس میں کیا حکمت ہے؟ وہ شیاطین اچانک ایک شیطان کیسے بن گئے کیونکہ فرماتا ہے اِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا - مبذر یعنی اسراف کرنے والے، حد سے زیادہ بڑھنے والے یہ تو شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا تھا۔تو دراصل شیطان کی تمثیل پر جو انسان پیدا ہوتے ہیں وہ ہمیشہ نفس کی خاطر خرچ کرنے والوں کو گھیر لیا کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ خائب و خاسر رہتے ہیں، بد انجام کو پہنچتے ہیں۔وہ جوان کے ماں باپ نے محنت سے کمائے تھے وہ سب چیزیں ضائع کر بیٹھتے ہیں تو ایک