خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 275
خطبات طاہر جلد 15 275 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء جماعت کی طاقت کا راز اس اطاعت میں ہے جوفرشتوں نے دکھائی تھی۔( خطبه جمعه فرمودہ 12 را پریل 1996 ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی : أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَونَهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشْوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (الجائیه: 24) پھر فرمایا: گزشتہ دو خطبوں سے یہ مضمون چل رہا ہے کہ اگر نفس کے اندھیروں کو نفس سے دور نہ کیا جائے تو روشنی وہاں جگہ نہیں بنا سکتی۔اس میں بظاہر ایک تضاد بھی ہے۔روشنی ہی تو ہے جو اندھیروں کو دھکیل کے باہر کرتی ہے مگر قرآن کریم نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ ایسا ہے کہ نفس کے اندھیرے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب روشنی کے رستے بند کر دیے جائیں۔روشنی کی جو راہیں اللہ نے بنائی ہیں ان سے اگر داخل بھی ہو تو وہ ادراک کی قوت جو آخری صورت میں ہر آنے والے پیغام کو بجھتی ہے اور اس کا تجزیہ کرتی ہے اس سے ایک آخری شکل نکالتی ہے وہ اس لائق نہ ہو کہ اس پیغام کو سمجھ سکے۔پس کوئی تضاد نہیں ہے اس بات میں۔روشنی میں طاقت تو ہے کہ وہ اندھیروں کا ازالہ کرے مگر وہ پر دے جو روشنی کی راہ میں حائل کر دیے جائیں پھر جو اندھیرے پیدا ہوتے ہیں ان کے وجود میں روشنی کا کوئی قصور نہیں۔پس یہ جو مثال دی أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَویه کہ وہ شخص جو اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنالے اس کی مثال ایسی ہے کہ اسے اللہ تعالی گمراہ قرار دے دے اور باوجود علم