خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 22
خطبات طاہر جلد 15 22 22 خطبہ جمعہ 12 /جنوری 1996ء دو مختلف مقامات ہیں جن سے آیات کا انتخاب کیا گیا ہے۔پہلی دو آیات سورہ المائدہ سے لی گئیں اور دوسری آیت جو بعد میں پڑھی گئی وہ سورۃ الاعراف سے ہے۔ان کو اس لئے اکٹھا تلاوت کیا گیا ہے کہ ان دونوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے اور قرآن کریم میں جو ہر قسم کے جوڑوں کا ذکر ملتا ہے ان طیبات کے جوڑوں میں سے آیات کے بھی جوڑے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو تقویت بھی دیتی ہیں ایک دوسرے میں اٹھائے ہوئے مضامین کی مزید تشریح بھی کرتی ہیں۔پس یہ ایسا ہی ایک آیات کا جوڑا ہے جو بعینہ ایک دوسرے پر منطبق ہو رہا ہے مگر مضامین کھولنے میں مختلف زاویوں سے روشنی ڈالتی ہیں اس لئے بات بہت زیادہ کھل کر سامنے آجاتی ہے۔پہلی آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اہل کتاب قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ وہ خوب کھول کر بیان کرتا ہے، بکثرت ایسی باتوں کو مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ کہ جن کے متعلق تم اخفاء سے کام لیا کرتے تھے مِنَ الكتب کتاب میں سے وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرِ اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی فرماتا ہے قَدْ جَاءَ كُمْ مِّنَ اللهِ نُورُ وَ كِتُبُ مُّبِينٌ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک عظیم الشان نور آچکا ہے۔وہ کتب مبین اور ایک روشن کتاب آچکی ہے۔اس آیت کا جو پہلا حصہ ہے وہ اس آیت کے آخری حصہ پر منطبق ہوتا ہے اور دونوں کو آمنے سامنے رکھ کر مضمون کھل جاتا ہے۔پر قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا کی تشریح میں فرمایا قَدْ جَاءَ كُمْ مِّنَ اللهِ نُور یعنی رسول جو آیا ہے وہ نور ہے اور اس بات میں ایک ادنی سا بھی شبہ باقی نہیں رہتا کہ خدا تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے اس رسول کا تعارف کرواتے ہوئے فرماتا ہے کہ قَدْ جَاءَ كُمْ مِنَ اللهِ نُور اور لفظ قَدْ جَاءَ كُم وہی ہیں جو پہلی آیت کے شروع میں بیان فرمائے گئے ہیں۔دوسرا کتب مبین فرمایا ہے اور پہلی آیت میں رَسُولُنَا کے بعد يُبَيِّنُ کا لفظ جو رکھا گیا ہے وہ دراصل کتب مبین کی طرف اشارہ فرما رہا ہے کیونکہ رسول اپنی طرف سے کوئی تبیین نہیں کرتا، کوئی روشنی مضامین پر اپنی ذات سے نہیں ڈالتا بلکہ کتاب اللہ کے حوالے سے وہ امور کو روشن کرتا ہے۔تو يُبَيِّنُ کی تفسیر ہے یہ کتب مبین ایک روشن کتاب بھی اس کے ساتھ آئی ہے اور جب وہ نور، الہی امور پر یا دنیا کے امور پر تمہاری ہدایت کے لئے روشنی ڈالتا ہے تو ہمیشہ وہ اس کتاب کے نور