خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد 15 268 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء گے تو خدا کے فضل سے پائیں گے ورنہ نہیں۔پس مردوں کو زندہ کرنا اس کو کہتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، وہ صدیوں سے جو قبروں میں دبے پڑے تھے وہ زندہ ہو گئے۔وہ کیا بات ہوئی، کیا ماجرا گز را، فرمایا ایک فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تو تھیں۔وہاں یہ نہیں فرمایا کہ تعلیم ، کتاب تھی یا حکمتیں بیان کرنے کا طریق تھا جس کی وجہ سے وہ گڑے مردے جو صدیوں سے مرے پڑے تھے وہ زندہ ہو گئے۔دیکھیں ایک عارف باللہ ہی ایک عارف باللہ کی حقیقت کو سمجھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا وہی حق ہے اس کے سوا اور کوئی حق نہیں کہ نہ نصیحت کام آئی، نہ دلائل کام آئے اور نہ تلوار نے کام کیا جیسا کہ مودودی کو دکھائی دیا۔اگر کام آئیں تو دعائیں کام آئیں۔فرمایا یہ جو عجیب معجزہ تم نے بیابان عرب میں رونما ہوتے دیکھا وہ ایک فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تو تھیں۔پس جہاں تک ہماری اگلی نسلوں کا تعلق ہے جو ان اندھیروں میں مبتلا ہو چکی ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے، یہ اللہ کا احسان ہے کہ نسبتا بہت کم ہیں ،مگر مغربی دنیا میں خاص طور پر دنیا کی چمک دمک سے مرعوب ہو کر ایک غیر معاشرے میں زندگی بسر کرتے ہوئے یہاں کے ٹیلی ویژن وغیرہ کے نظام سے متاثر ہو کر بعض دفعہ یہاں پیدا ہونے والے بچے اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں۔پیشتر اس کے کہ ان کی آنکھیں اندھی ہوں لازم ہے کہ ان کی فکر کی جائے اور محسوس کیا جائے کہ بیماری کیا ہے اور کہاں تک پہنچی ہے۔اندھے ہونے سے پہلے پہلے ان کو روکنا ہمارے بس میں ہے۔اگر اندھے ہو ہی چکے ہوں تو پھر یہ بھی سوال ہے کہ کیا تینوں رستے بند ہو گئے ہیں۔اب دیکھیں قرآن کریم کی حکمت کا بیان کہ تین رستوں کے لئے الگ الگ بیماریاں بیان فرمائی ہیں۔کان کا رستہ ایک نور کا رستہ ہے۔آنکھ کا رستہ ایک نور کا رستہ ہے اور تذکیر کی قوت اور فکر کی قوت جو ماحصل کو آپس میں ملا کر نئے نتائج پیدا کرتی ہے اس کو دل کی قوت کہا جاتا ہے، وہ بھی ایک نور کا رستہ ہے۔ورنہ ایک شخص جس کے دماغ میں نتائج اخذ کرنے کی قوت نہ ہو وہ دیکھتا بھی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔وہ سنتا بھی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔بعض بیمارا ایسے ہیں ان کی اطلاع دیتے ہیں کہ آنکھیں تو کھول لی ہیں، آواز بھی آرہی ہے مگر کچھ پتا نہیں کہ کیا سن رہا ہے اور کیا دیکھ رہا ہے۔