خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 264

خطبات طاہر جلد 15 264 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء انسان روشنیوں سے اندھیرے میں چلا جاتا ہے۔پس وہ تین اندھیرے جن کا ذکر پہلی آیت میں گزرا تھا وہی تین اندھیرے دوسری آیت میں اور طریق سے بیان کر کے دکھائے گئے ، انہی تین اندھیروں کا ذکر اسی آیت میں ملتا ہے اور ان کی آخری صورت ہے کہ ان کو اپنا معبود نہ بنا بیٹھنا۔اور پھر اس آیت میں ایک اور حسن یہ ہے کہ جو آیت میں نے آپ کے سامنے پہلے پڑھی تھی کہ جو تین حصے فرمائے گئے ہیں وہ انسانی زندگی کے تین مشاغل کی قسمیں ہیں جن میں انسانی زندگی ہمیشہ منہمک رہتی ہے۔لہو و لہب تو ظاہر بات ہے جو Social Pursuits ہیں انسان کی اپنی ذات کو خوش رکھنے کے لئے جو مختلف قسم کے بہانے انسان نے تراشے ہوئے ہیں، ذرائع اختیار کئے ہوئے ہیں، ہر قسم کی زائد دلچسپیاں جو کھانے پینے کے علاوہ محض زندہ رہنے سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ زندگی کو ایک شغل میں ہمیشہ غرق کر دینے سے تعلق رکھتی ہیں۔لعب میں غرق رہے یا لہو میں غرق رہے انسان ایک قسم کا ڈرگ ( Drug) کا Adict ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی سوائے اپنے آپ کو سکون بخشتے کے اور کچھ نہیں رہتی یا سکون کی تمنا میں ہمیشہ دوڑتے چلے جانے کے سوا اور کچھ نہیں رہتی۔دوسرا مضمون ہے زِينَةٌ وَتَفَاخُر اس میں ہر قسم کے زیب وزینت کے سامان جتنی کاسمیٹک انڈسٹری ہے، مکانوں میں صرف ضرورت کی خاطر اضافے نہ کرنے بلکہ محض اس لئے کہ فلاں کے مکان سے زیادہ خوب صورت ہو اور اس سے زیادہ اونچا دکھائی دے اس طرح ایک دوسرے سے دوڑ شروع ہو جائے۔یہ جو دوڑ ہے یہ بھی انسانی زندگی کو خاص مقاصد کے لئے وقف کر دیتی ہے اور ایسے لوگوں کو دوسری چیزوں کی ہوش نہیں رہتی۔اور تَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ در اصل سیاسی غلبے سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے کیونکہ قرآن کریم نے اموال اور اولا د کو دوسری آیات میں سیاسی غلبے سے باندھا ہے اور بڑے بڑے بادشاہوں کو ، جب ان کے تکبر کا حال بیان فرمایا اس طرح ظاہر کیا گیا کہ ان کا فخر یہی تھا کہ ہماری اولا د زیادہ ہے، ہمارے اموال زیادہ ہیں۔اموال والوں نے اپنے آپ کو سمجھا کہ ہم اموال کے ذریعہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔صاحب اولا دلوگوں نے سمجھا کہ اولاد کے ذریعے ہمارا غلبہ باقی رہے گا۔تو نفس کی انا جو حکومت چاہتی ہے جو سیاست کے ذریعے یا حربی ذرائع سے ایک شخص یا ایک قوم کو دوسروں کا آقا بنادیتی ہے۔یہ وہ تمنا ہے جس کا تعلق اموال اور اولاد کی کثرت سے ہے۔