خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 263
خطبات طاہر جلد 15 263 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء کوئی بھی تعلق نہیں وہ تو شرم کا موجب ہیں۔اُمت محمدیہ سے مراد وہ حقیقی امت ہے جو اللہ کے عباد ہیں جو محمد رسول اللہ لہ کے توسط سے حقیقی عباد بن گئے۔آپ کی برکت سے لوگوں کو عبد اللہ بننے کے گر آگئے ، ایسے عباد اللہ ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں ان کو بڑھانے کے لئے آنحضرت نے بھی دعا مانگی اور امت کو ہدایت بھی کی۔تو یہ ساری باتیں جو تین جوڑوں کی صورت میں آپ کے سامنے ہیں ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو اپنی ذات میں گناہ ہو۔ہر چیز وہ ہے جو فطرتا، طبعا انسان کے اندر رکھی گئی ہے اور اس کی حرمت فی ذاتہ کوئی بھی نہیں لیکن حرمت بنتی کب ہے۔وہ آیت ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے اس میں یہی تین مضمون ہیں جیسے وہاں تین امور کا ذکر کر کے متنبہ فرمایا گیا تھا اس میں بھی تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوىه کیا تو نے غور کیا ایک ایسے شخص کے اوپر جو اپنے نفس کی خواہشات کو معبود بنا بیٹھے، اس کے تابع ہو جائے ، اس کا غلام بن جائے۔ایسی صورت میں لعب بھی حرام ہو جائے گی ، بہو بھی حرام ہو جائے گی ، ایسی صورت میں ہر قسم کی زینت بھی حرام ہو جائے گی اور زینت کے ساتھ تفاخر بھی حرام ہو جائے گا۔مال کی زیادہ کی خواہش بھی حرام اور اولاد کی زیادہ خواہش بھی حرام۔یہ ساری چیزیں تب حرام ہوتی ہیں جب قرآن کی اس آیت کی رو سے یہ معبود بن جائیں اور ھوی کا معبود بننا یہ سب سے بڑا اندھیرا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ أَضَلَّهُ اللهُ عَلَى عِلْمٍ ایسے شخص کو علم ہو بھی تو اندھا ہوتا ہے، گمراہ ہو جاتا ہے۔خَتَمَ عَلَى سَمْعِے کان ہیں لیکن سننے کے کان نہیں ہیں۔دل ہے مگر غور کرنے کے قابل دل نہیں ہے۔آنکھیں ہیں مگر پردہ پڑا ہوا ہے تو تین اندھیرے ہی تو ہیں۔ہمارے اندر روشنی کے داخل ہونے کے یہی تین رستے ہیں۔یعنی سماعت کی روشنی علم کی روشنی جو سننے سے تعلق رکھتی ہے اور بصر کی روشنی جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے بعد غور کرنے کی صلاحیت، یہ وہ اندرونی روشنی ہے جو مختلف ان علوم کو جو کانوں کے ذریعے یا آنکھوں کے ذریعے انسان کے دماغ تک پہنچتے ہیں اور دماغ انہیں آپس میں جس طرح جانور جگالی کرتا ہے اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر ، الٹ پلٹ کے ان سے نئے مضامین کے رس نکالتا ہے۔یہی تین ذریعے ہیں جو اس کو اندھیروں سے روشنی میں لاتے ہیں اور یہ سارے ذرائع اگر بند ہو جائیں تو