خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 262
خطبات طاہر جلد 15 262 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء وہاں منہ پھیرنا بھی ایک اندھیرا ہے۔مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ کون ہے جو یہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کے لئے جو زینت بنائی ہے وہ حرام ہے یا اچھے کھانے پیدا کئے ہیں تو نیک آدمی اس کو پسند نہیں کرتے۔فرماتا ہے هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا صرف آخرت میں نہیں اس دنیا میں بھی یہ دونوں چیزیں اللہ نے اپنے بندوں کی خاطر پیدا کی ہیں اور خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيمَةِ لیکن قیامت کے دن صرف انہی کے لئے ہوں گی۔وہ لوگ جو دنیا کی زیتوں میں، دنیا کے اعلیٰ کھانوں میں ان کے ساتھ یہیں شریک ہیں ان کے لئے ، خدا نے پیدا نہیں کیا مگر نیک بندوں کا صدقہ وہ بھی کھا رہے ہیں۔بنایا اپنے بندوں کے لئے ہے مگر وہ جو رفتہ رفتہ شیطان کے بندے بن جاتے ہیں وہ خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ان سے بلکہ نیک بندوں سے زیادہ چھین کے لے جاتے ہیں۔مگر فرمایا مرنے کے بعد ان کو کچھ نہیں ملے گا پھر۔یہ چیزیں خالصہ زینت اور اچھا طعام ان کے لئے ہو گا جو خدا کے حقیقی بندے ہیں۔تو دیکھیں منع نہیں ہے زینت اور خدا تعالیٰ نا پسند فرماتا ہے اس بات کو کہ زینت کو حرام قرار دیا جائے مگر وہاں اس آیت میں اندھیروں کی مثال کے طور پر زینت کو بھی پیش فرمایا۔وَزِينَةً وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمُ وہ زینت جو مقصود بن جائے وہ گناہ ہے وہ زینت جو ایک دوسرے پر فخر کا موجب بنے یا ایک دوسرے پر فخر کی وجہ سے اختیار کی جائے وہ منع ہے۔اور اگلا حصہ آیت کا ہے۔وَتَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَا دِ مال میں اور اولاد میں بڑھنا اور تکاثر، ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرنا۔اب مال کی تمنا بھی اپنی ذات میں منع نہیں ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا (الحشر : 9) وہ اللہ کے فضل یعنی یہاں مال مراد ہے، دنیاوی رزق کے لئے اللہ کی طرف جھکتے ہیں اور اسی سے رضوان چاہتے ہیں۔اولاد کی بھی خواہش منع نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایسی عورتوں سے شادی کرو جو خوب بچے پیدا کریں تا کہ میری اُمت بڑھے اور یہاں بھی مقصد تفاخر نہیں ہے۔تَكَاثُر ان معنوں میں نہیں کہ لوگوں کے بچے کم ہو جائیں اور مر جائیں اور میری اُمت کے بڑھیں ، مراد یہ ہے کہ نیک لوگ بڑھیں۔اُمت محمدیہ تو وہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے پیچھے چلنے والی ہے۔یہاں نام کی اُمت ہرگز مراد نہیں، یہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ نام کی اُمت کا تو آنحضور نے سے