خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 259

خطبات طاہر جلد 15 259 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء کر دیں ان کے اعمال ایسے ہی ہیں جیسے ایک چٹیل میدان ہو اس میں دور کہیں پانی کا دھوکہ ہو جسے سراب کہتے ہیں اور زندگی بھر یہ لوگ اس پانی کی تلاش میں اس کے پیچھے سر گرداں دوڑے چلے جاتے ہیں اور بالآخر پیاس نہیں بجھتی۔پس دنیا کی زندگی میں جو لوگ مگن ہیں جو کہتے ہیں یہی ہماری زندگی ہے ان کی یہی مثال ہے۔عمر بھر وہ ایک ایسی پیاس کی طلب میں سرگرداں رہتے ہیں جس کی پیاس کبھی زندگی میں بجھ سکتی ہی نہیں۔کوئی شخص بھی جو دنیا کی خواہشات کی پیروی کرنا اپنا مقصد بنالے اس کو کبھی عمر بھر وہ لئے نصیب نہیں ہوتے کہ وہ کہے کہ ہاں میری تمنا ئیں پوری ہو گئیں، میری سب پیاس بجھ گئی۔بلکہ جس قدر بجھتی ہے اس سے زیادہ بھڑک اٹھتی ہے۔سمندر کا پانی پینے والی بات ہے یا پھر سراب کی پیروی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔جوں جوں پانی قریب آتا دکھائی دیتا ہے اور جوں جوں انسان اس کی پیروی کرتا ہے وہ اور بھی پیچھے ہٹتا چلا جاتا ہے اور اس مقام کو پھر بھی انسان نہیں پہنچ سکتا جہاں اسے پانی میسر آ جائے اور پیاس بجھ جائے ہاں اللہ تعالیٰ کا حساب کا نظام اسے پہلے آلیتا ہے اور موت ایسی حالت میں واقع ہوتی ہے کہ ابھی اس کی پیاس تو بجھی نہیں مگر جو کچھ بھی اس نے کیا اس کا حساب دینے کے لئے تقدیر الہی اسے وہاں موجود دکھائی دیتی ہے۔یہ جو مثال تھی میں نے کہا تھا یہ نفس کے اندھیروں کی مثال ہے جو انسان کے نفس کے اندر سے پیدا ہوتے ہیں مگر دیکھنے میں نظر کام کرتی ہے ، نظر کے لئے روشنی جو ضروری ہے وہ بھی بظا ہر موجود ہوتی ہے اور سب کچھ ہونے کے باوجود پھر دکھائی نہیں دیتا۔ورنہ سراب تو چمکتے ہوئے سورج کے ساتھ دکھائی دیتا ہے جب ایسی تیز روشنی ہو کہ نظریں چندھیا جایا کرتی ہیں۔تو اسے اندھیرا قرار دینا یہ معنوی لحاظ سے اور آخری مقصد کے لحاظ سے ہے یعنی تیز روشنی ہے اور پھر بھی صحرا کو انسان پانی سمجھ رہا ہے، پنپتی ہوئی ریت کو انسان پانی سمجھ رہا ہے اور روشنی ہوتے ہوئے بھی اندھا ہے۔چنانچہ یہ جو میں نے ترجمہ کیا تھا اس آیت کا جو میں نے تلاوت کی ہے کہ عَلیٰ عِلم کا مطلب ہے اپنے علم کے باوجود وہ نہیں دیکھ رہا۔اس کا اس آیت سے قطعی طور پر ایک تعلق ہے جو کھلم کھلا دکھائی دینے لگا ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے شخص کی مثال ایسی ہی ہے جو جو أَضَلَّهُ الله عَلَى عِلْمٍ کہ اسے اللہ نے گمراہ اس طرح کیا ہے کہ علم ہے بھی اور پھر بھی گمراہ ہے ورنہ صاحب علم کو تو گمراہ نہیں کہا جاتا اور اس گمراہی کی جو تفصیل ہے وہ اسی آیت کے مضمون کو آگے بڑھا