خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 257
خطبات طاہر جلد 15 257 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء دعاؤں کے سہارے سے اپنے نفس کے اندھیروں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ ( خطبه جمعه فرموده 5 را پریل 1996 ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کی : أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوْنَهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشْوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَّا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ۔ پھر فرمایا : (25،24: یہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے۔ سورۃ الجاثیہ کی چوبیسویں اور پچیسویں آیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَویه کیا تو نے ایسے شخص کی حالت پر بھی غور کیا ہے۔ جس نے خواہش نفس ہی کو اپنا معبود بنالیا ہو، اپنے نفس کی خواہش کو اٹھا اپنا معبود بنا لیا ہو۔ وَ أَضَلَّهُ اللهُ عَلَى عِلْمٍ اور اللہ تعالیٰ نے اسے خاص علم کی بناء پر گمراہ ٹھہرایا ہو اور ایک دوسرا ترجمہ جو اس پہلے مضمون سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے یا دونوں کو برابر بھی سمجھیں تو بیک وقت دونوں جائز بھی ہیں اور اس مضمون سے گہرا تعلق رکھنے والے تراجم ہیں وہ یہ ہیں۔ علی علی اپنے علم کے باوجود اس کو اندھا کر دیا ہو یعنی ایسا شخص جس نے اپنی خواہ اپنی خواہش نفس کو معبود بنالیاوہ علم کے باوجود اندھا ہوتا ہے۔ دیکھتے ہوئے دیکھ نہیں سکتا، سنتے ہوئے سن نہیں سکتا اور اس کے