خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 250

خطبات طاہر جلد 15 250 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء کا مقابلہ کرسکیں گے۔بہت خطرناک حالات ہیں اس کو Postpone کر دیں ، ٹال دیں اس کے وقت کو۔حضرت ابو بکر نے جو جواب دیا حیرت انگیز ہے۔فرمایا ابن ابی قحافہ کی مجال کیا ہے کہ جو فیصلہ محمد رسول اللہ ﷺ کا آخری فیصلہ ہو، آپ کی کرسی پر بیٹھ کر میں پہلا فیصلہ اس فیصلے کو منسوخ کرنے کا کروں۔میں ہوتا کون ہوں۔اس پر آپ قائم رہے اور سارے صحابہ کا فیصلہ رد کر دیا۔صلى الله اگر مجلس شوریٰ کا یہ تصور ہوتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو تو اختیار تھا مگر آپ کے مسند پر بیٹھے ہوئے ، آپ کے غلاموں کو اختیار نہیں ہے، تو صحابہ اٹھ کھڑے ہوتے۔کہتے ابوبکر ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کے اس فوقیت رکھنے والے حق کو تو تسلیم کر لیا تھا، مگر تیرے حق کو تسلیم نہیں کریں گے۔ہمارا سوچا سمجھا اکثریت کا فیصلہ ہے، تجھے مانا ہو گا۔کبھی ایک موقع پر بھی ایسا نہیں ہوا اور حضرت ابوبکر کا فیصلہ چلا اور آپ نے اس کے ساتھ جو الفاظ بیان فرمائے ، اس سے آپ کا تو کل ظاہر ہوتا ہے۔کیسے میں اس فیصلے کو بدلوں۔اگر تم کہتے ہو کہ نقصان ہے تو خدا کی قسم اگر مدینے کی گلیوں میں مسلمان عورتوں کی لاشیں بھی کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں یہ فیصلہ نہیں بدلوں گا، کیونکہ میرے آقا و مولا محمد رسول اللہ ﷺ کا آخری فیصلہ تھا۔ایسے لوگ ہیں جو تو کل کرتے ہیں خدا پر اور ایسے لوگ ہیں جن کے تو کل کو خدا سچا کر دکھاتا ہے۔پس یہ روح لے کر مجلس شوری کو ہمیشہ زندہ رکھیں ، اسی روح کے ساتھ مجلس شوریٰ زندہ رہے گی۔متقی لوگوں کو چنیں۔ان لوگوں کو چنیں جو خدا کے حضور محبت کے ہدیئے پیش کرتے ہیں۔جن کی نہ جانیں اپنی رہیں نہ ان کے مال اپنے رہے وہ تمام تر خدا کے ہو گئے۔پھر نہ دنیا کی پرواہ کریں، نہ دنیا کی خیریتوں کی پرواہ کریں محض اللہ کی خاطر فیصلے کریں اور یہ فیصلہ جب منظور ہو تو تمام تر آپ کی جانیں آپ کے دل اس کی منظوری کے ساتھ شامل ہو جائیں۔جب یہ فیصلہ رد ہو تو تمام جان اور تمام دل کے ساتھ اور اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اس کے رد کرنے پر ا کٹھے ہو جائیں۔یہ وہ طبعی مجلس شوری ہے جس کے بعد پھر دل پھٹ نہیں سکتے۔امتِ واحدہ کو پھر کوئی ٹکڑے ٹکڑے کر کے الگ نہیں کرسکتا۔اور لِنْتَ لَهُمُ کے اندر اس کی جان ہے۔آپ بھی آپس میں محبت رکھیں اور پیار کے رشتوں پر کسی نفرت کے رشتے کو غالب نہ آنے دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور اللہ تعالیٰ جماعت کی اس مجلس شوریٰ کو ہمیشہ زندہ رکھے کیونکہ اس شوریٰ ہی میں جماعت احمدیہ کی جان ہے۔