خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 246

خطبات طاہر جلد 15 246 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء کی اس طرح تربیت کی جا رہی ہو ، جن کے لئے دعائیں مانگی جارہی ہوں، جن کی کمزوریوں سے جہاں تک ممکن ہے صرف نظر کیا جا رہا ہو ان سے مشورہ مانگ فِي الْأَمْرِ الْأَمْرِ کی ایک تعریف یہ کی گئی ہے اہم معاملات میں۔ورنہ روز مرہ کی ہر بات میں تو مشورہ نہیں چل سکتا۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ لیکن ان کے مشورے کی حیثیت مشورے ہی کی ہے۔امر تیرے پاس ہے۔خدا کی طرف سے تو مجاز بنایا گیا ہے۔پس جب یہ مشورہ دے بیٹھیں تو فیصلہ ان کا نہیں تیرا چلے گا۔فَإِذَا عَزَمْتَ پس جب تو ایک فیصلہ کر لے فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ تو تو کل پھر اللہ پر کرنا ہے، ان پر نہیں کرنا۔ان پر تو کل نہیں کرنا، اللہ پر توکل کرنا ہے اس میں ایک اور مضمون ہے جوان الفاظ کے لباس میں لپٹا ہوا ہے۔وہ یہ ہے کہ جس نے آخری فیصلہ کرنا ہے وہ پابند تو نہیں کہ بات مانے۔وہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چند آدمیوں کی مان لے اور اکثر کی رڈ کر دے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کی رڈ کر دے مشورہ کرے اور کہے میں اس کو درست نہیں سمجھتا جو کچھ تم نے کہا ہے غلط ہے میں اب فیصلہ کروں گا۔تو مراد یہ نہیں کہ مشورہ بے کار تھا۔مراد یہ ہے کہ ہر مشورہ دینے والا اپنی ایک عقل و فہم رکھتا ہے اور نسبتا کم عقل و فہم رکھنے والوں کی اکثریت بھی ہو جائے تو ممکن ہے ایک اکیلا شخص جو ان میں سے ہر ایک سے زیادہ عقل و فہم رکھتا ہو اس کا فیصلہ ان سب پر غالب ہو۔اس لئے بسا اوقات ایک عقل مند کی بات دوسرے نسبتاً کم عقل مندوں کی بات پر حاوی ہو جاتی ہے باوجوداس کے کہ کم عقل مندوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔اور یہ ایک طبعی امر ہے، ایک حسابی امر ہے، اس میں کسی وہم کا کوئی شائبہ تک نہیں، حقیقت ہے۔ہر بات ہر شخص کو سمجھ نہیں آتی لیکن ایک صاحب فہم آدمی کی جب دوسرے نسبتاً کم فہم لوگ مدد کرتے ہیں تو اس کی فہم میں ان کی فہم کے مثبت پہلو شامل ہو جاتے ہیں اور وہ اور زیادہ جلاء کے ساتھ ، اور زیادہ بلند مقام پر فائز ہوتے ہوئے فیصلے کی اہل بنتی ہے۔پس مشورہ بے کار نہیں ہے۔یہ نہیں کہا گیا کہ چونکہ رسول اللہ اللہ سب سے زیادہ صاحب عقل ہیں، سب سے زیادہ اولوالالباب میں آپ کا مقام ہے اس لئے آپ کو مشورے کی ضرورت نہیں۔مشورے کی ضرورت اس لحاظ سے ہے کہ عقل کل صرف اللہ ہے اور اس کے نیچے آنحضرت ﷺ نے سب سے زیادہ عقل سے حصہ پایا لیکن اور بھی ہیں جو اولوالالباب ہیں کثرت سے ان کا وجود موجود ہے خاص طور پر غلامان محمد مصطفی ﷺ میں اولوالالباب کی کثرت تھی۔ان سے بھی پوچھو، ہوسکتا ہے