خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 242
خطبات طاہر جلد 15 242 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء میں اپنا مضمون پیش کرنے کی توفیق بخشے اور صحیح مشورہ حاصل کرنے کی توفیق بخشے تو یہ بھی اس میں شامل ہے اس لئے ہرگز ا سے ہدیہ پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔ہرگز لازم نہیں کہ جو بھی پیش ہو وہ ہدیہ دے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے بعض لوگوں کو شاید یہ سن کر شاق گزرے تو فرمایاء أَشْفَقْتُم کیا تم ڈر گئے ہو اس بات سے کہ کچھ دینا ہو گا۔نہیں دے سکتے ، استغفار کرو، کچھ نہ دو۔مگر وہ دینے میں حکمت کیا ہے۔وہ حکمت وہی محبت کے رشتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ایک طبعی محبت کا رشتہ پیدا ہوتا ہے جو دو طرفہ ہے اور دونوں طرف برابر اثر دکھاتا ہے۔اس مضمون سے ہٹ کر عام انسانی تعلقات پر غور کریں تو آپ کو آسانی سے بات سمجھ آ جائے گی۔جب بھی آپ کسی کو محبت کی وجہ سے تحفہ دیتے ہیں تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس کو زیادہ خوشی ہوئی ہے کہ آپ کو زیادہ خوشی ہوئی ہے۔تحفہ دینے والا کبھی بھی گھٹن محسوس کر کے تحفہ نہیں دیا کرتا۔وہ تو ٹیکس ہوگا یا چٹی ہوگی۔تھنے کے اندر محبت کا مضمون ایسا داخل ہے کہ اسے الگ کیا جاہی نہیں سکتا۔پس یہ خیال کہ جو تحفہ دیتا ہے وہ دوسرے کو خوش کرتا ہے یہ بالکل سادہ بچگانہ خیال ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ تحفہ دیتا ہے تو اس کو سجا تا اس لئے ہے کہ دوسرا خوش ہو، ورنہ دینے والا خوش نہیں ہوگا۔پس در حقیقت دینے والے کو اپنی خوشی زیادہ منظور ہوا کرتی ہے کیونکہ اس تحفے کے بدلے وہ پیار جیتنے جاتا ہے اور جانتا ہے کہ پیار ملے گا اس لئے وہ زیادہ پیار لینے کی خاطر تحفے کو اس طرح سجا کر بنا کر پیش کرتا ہے اور نظر رکھتا ہے کہ دیکھیں کیا اثر ہوا ہے اس کا۔اور بعض لوگ کہتے ہیں ہم آپ کے سامنے کھول کے دکھاتے ہیں کیا چیز ہے۔یہ کوئی رسمیں نہیں ہیں ، دکھاوا نہیں ہے۔یہ محبت کے رشتے ہیں اور محبت سے ایسی باتیں خود بخود پیدا ہوتی ہیں۔پس آنحضرت ﷺ سے بھی جہاں مشورہ لینے کا ارشاد ہے۔وہاں اس مضمون کو پھر داخل فرما دیا گیا اور خدا تعالیٰ سے رشتے باندھنے کے لئے فرمایا اپنا سب کچھ اپنے ارادے کے لحاظ سے اس کے حضور حاضر کر دو۔التحیات اللہ ہر روز نماز میں ہمیں یہ عہد یاد دلاتا۔ہر نماز کے تشہد میں ہمیں یہ بات یاد دلائی گئی کہ تم نے خدا سے ایک سودا کیا ہوا ہے۔اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبہ: 111 ) کہ اللہ نے سب مومنوں سے ایک ایسا سودا کر لیا ہے کہ اب نہ ان کے اموال ان کے رہے ، نہ ان کی زندگیاں ان کی رہیں، سب کچھ خدا کے ہو گئے ہیں۔پس جب ہو چکے، تو جب چاہے، جتنا چاہے اس میں سے طلب کر لے اور اس مضمون کو فرمایا یہ