خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 241

خطبات طاہر جلد 15 241 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء کے اہل نہیں ہیں کہ اس جگہ داخل ہو سکیں۔وہاں محض رحمت والے لوگوں کا کام ہے رحمت کے نتیجے میں ہی شوری کا نظام بنتا ہے رحمت کے نتیجے میں ہی یہ نظام زندہ اور دائم ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔پس سب سے اہم مشورہ اس آیت کے منطوق کے پیش نظر ربوہ میں جو پاکستان کی مجلس شوریٰ ہو رہی ہے، ان کو میرا یہی ہے کہ اپنے دلوں کو ٹولیں کیا ان سب بھائیوں سے آپ کا باہمی محبت کا تعلق ہے یا کچھ کی رائے آپ کو بری لگی ہے۔کچھ ایسے بھی ہیں جو تقریر کے لئے آتے ہیں تو آپ بل کھاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اس کے دلائل کا کیا تو ڑ کروں۔اگر یہ ہے تو جہاں جہاں ہے وہاں وہاں مجلس شوری کے نظام میں رخنہ پیدا ہو گیا ہے۔پس اگر تعلقات بگڑے ہوئے بھی ہوں تو خدا کی خاطر ایسے موقع پر جب کہ خدا کے نام پر مشورے کے لئے بلایا جائے اپنے بگڑے ہوئے تعلقات کو باہر پھینک کر آئیں اور اگر ایسا کریں گے اور خدا کی خاطر ایسا کریں گے تو باہر نکل کر بھی آپ کا دل پھر ان کو اٹھانے کو نہیں چاہے گا۔وہ مکروہ مردہ صورتیں دکھائی دیں گے اور حقیقت میں ایک نیکی دوسری نیکی کو ضرور پیدا کرتی ہے۔پس اللہ کی خاطر اپنے دلوں کو باہمی رنجشوں سے پاک کریں اور ساری دنیا میں نظام جماعت کی بناء چونکہ شوری پر رکھی گئی ہے اور شوریٰ کا خلیفہ وقت سے وہ رابطہ ہے جو قرآن نے محمد رسول اللہ ﷺ کا مومنوں کی جماعت سے قائم فرمایا تھا اور وہی رابطہ ہے جو زندہ رکھنے کے لائق ہے ورنہ کوئی رابطہ زندہ رکھنے کے لائق نہیں۔اسی رابطے کے نتیجے میں جماعت کو تقویت نصیب ہوگی، اسی رابطے کے نتیجے میں جماعت کو وحدت نصیب ہوگی، اسی رابطے کے نتیجے میں جماعت کو سرخروئی عطا ہوگی ، اسی رابطے کے نتیجے میں جماعت اپنے مسائل پر ایسے غور کرے گی کہ دنیا بھر کی بڑی سے بڑی طاقتیں بھی اس قسم کے پاکیزہ غور سے محروم ہوں گی جو اس چھوٹی سی جماعت کو اللہ تعالیٰ یہ سعادت نصیب فرمائے گا جیسا کہ ہمیشہ فرماتا رہا ہے۔تو پہلا نکتہ حکمت کا یہ ہے کہ مشوروں سے پہلے اپنے دلوں میں نرمی پیدا کیا کریں اور رحمت کا نمونہ دکھائیں۔قرآن کریم نے اس مضمون کو ایک اور لطیف انداز میں بھی بیان فرمایا۔فرمایا جب رسول کی خدمت میں مشورے کے لئے حاضر ہوا کرو تو کچھ صدقہ دیا کرو۔وہاں صدقے سے مراد ہدیہ بھی ہے جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے مثلاً اس مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور یہ مسلمہ ترجمہ چلا آ رہا ہے، ہدیہ بھی ہے اور اگر کسی غریب کو صدقہ دیا جائے خدا کی رضا کی خاطر کہ اللہ تعالیٰ صحیح معنوں