خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 240

خطبات طاہر جلد 15 240 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء گرے گی تو طاقت نہیں پیدا کرے گی۔بارش کا پانی جب گرتا ہے تو پھر اس سے بجلی بنتی ہے۔وہ گرتا لیوں ہے؟ کشش ثقل کی وجہ سے گرتا ہے۔لیکن یہ مضمون بہت تفصیلی ہے اس کی بحث میں نہیں میں جاؤں گا۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رحمت کا جو ذکر ہے۔یہ سب سے بنیادی طاقت ہے۔جس سے آگے سب طاقتیں پھوٹتی ہیں اور آنحضرت ﷺ ایک ہی نبی ہیں جن کو رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ قرار دیا گیا ہے۔ورنہ دنیا کی تمام کتب کا آپ مطالعہ کر لیں کہیں بھی کسی نبی کو رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ قرار نہیں دیا۔قوموں کے لئے رحمت تو پیدا ہوئے لیکن عالمین کے لئے ایک ہی نبی تھا جسے رحمت کا مظہر بنا کر بھیجا گیا اور یہی رحمت ہے جس کو شوری کی بناء بنایا گیا ہے، شوریٰ کی بناء قرار دیا گیا ہے۔اگر رحمت کے بغیر محض عقل کے بندھن ایک قوم کو باندھے ہوئے ہوں تو ان کے مشوروں میں سچا تقویٰ اور دیانت پیدا ہو ہی نہیں سکتے۔اس کے لئے رحمت اس لئے ضروری ہے کہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہو اور وہ آپ سے پوچھے کہ رستہ کون سا ہے تو آپ بے اختیار ہیں۔آپ کی دیانت کی بحث نہیں ہے، آپ کی محبت کی بحث ہے۔آپ اسے ضرور صحیح رستہ بتا ئیں گے ، غلط رستے پر ڈال سکتے ہی نہیں۔ایک ماں اپنے بچے کو غلط مشورہ نہیں دے سکتی۔لاعلمی اور جہالت کی اور بات ہے، مگر جہاں تک اس کی تمام تر کوشش کا تعلق ہے، وہ سچا مشورہ ہی دے گی۔پس مشوروں میں سچائی کے پیدا ہونے کے لئے رحمت ضروری ہے ورنہ مشوروں میں سچائی پیدا نہیں ہو سکتی اور اگر مشورے سچائی سے عاری ہوں تو ان میں طاقت پیدا نہیں ہوتی۔پس جس طرح کشش ثقل پر آپ غور کریں تو تمام تر طاقتیں بالآخر اسی کشش کی مرہون منت بنتی ہیں۔اسی طرح محبت ہی کی مرہون منت تمام انسانی تعلقات ہیں اگر وہ صحیح ہیں اور اسی کے تصرف کے نتیجے میں پھر نئی نئی طاقتیں وجود میں آتی ہیں، نئے نئے تعلقات ابھرتے ہیں۔پس مجلس شوری جو اس وقت ربوہ میں ہو رہی ہے ان کو میں سمجھا رہا ہوں کہ یہ وہ شوریٰ کا مضمون ہے جسے وہ ہرگز کبھی نظر انداز نہ کریں اور ان کے حوالے سے تمام دنیا کی جماعتیں بھی اس بات کو سمجھیں۔وہ لوگ جو کسی عہدیدار کا عناد لے کر اس کمرے میں داخل ہوتے ہیں جہاں مومن مشورے کے لئے بیٹھے ہیں وہ دودھ میں زہر گھولنے کی خاطر آتے ہیں۔وہ حقیقت میں اس بات