خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد 15 226 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء۔تو فرمایا جب کچھ لوگوں کو چھوڑو گے تو پھر کن لوگوں میں تمہاری دلچسپیاں محدود ہونی چاہئیں، کن میں تمہارا اٹھنا بیٹھنا ہونا چاہئے۔ان لوگوں میں جن کی اپنی توجہ کا مرکز خدا کی ذات ہے اور ان کی ساری رضا، ان کی ساری دلچسپیاں اللہ کی وجہ میں ہیں۔یعنی یہ مراد نہیں ہے کہ یہ لوگ بور ہیں یا ان کے ساتھ زندگی جو ہے اس میں وہ اکتاہٹ والی اور بے لذت ہو جاتی ہے۔فرمایا وہ لوگ جو دنیا کی لذات کی اندھا دھند پیروی نہیں کرتے ، ان حدود میں رہتے ہیں جن حدود تک خدا تعالیٰ اجازت دیتا ہے ان کو بھی لذتیں ملتی ہیں بلکہ جیسا کہ میں نے پچھلے خطبے میں کھول کر بیان کیا تھا سراب کی پیروی کرنے والوں سے بہت زیادہ لذتیں پاتے ہیں۔مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو ان سے سوا بھی لذتیں ملتی ہیں اور وہ لذتیں وجہ اللہ میں ہیں، اللہ کے چہرہ میں ہیں ، اللہ کی توجہ میں ہیں ، اللہ کی رضا میں ہیں۔پس ایک طرف سے تو تم آنکھیں بند کرو گے تو اس کے مقابل پر کچھ اور چیز تمہیں میسر آنی چاہئے ورنہ ناممکن ہے کہ خدا کی خاطر انسان ایک مثبت چیز کو چھوڑ دے اور یہاں اندھیروں سے روشنی کے سفر کا طریقہ سمجھا دیا گیا۔یہ نہیں فرمایا کہ ان کو چھوڑ کر الگ ہو کر اپنے گھروں کے دروازے بند کر کے بیٹھ رہو۔فرمایا ایک سوسائٹی سے دوسری سوسائٹی کی طرف منتقل ہو، تمہیں سہارا چاہئیے۔اور وہ سوسائٹی ایسی ہے جس سوسائٹی کا نقشہ کھینچتے وقت فرماتا ہے ان کی اللہ کی رضا پر آنکھ رہتی ہے اور جو رضائے باری تعالیٰ ہے اس میں بے انتہا لذتیں ہیں اور اندھیرے سے روشنی کے سفر کا دوسرا نام یہی ہے کہ انسان خدا کی رضا سے محروم لوگوں سے جدائی اختیار کر کے اس جگہ سے ہجرت کرتے ہوئے ان لوگوں کی طرف ہجرت کرے جن لوگوں کو ہمیشہ صبح بھی اور شام کو بھی اللہ کی رضا مطلوب ہے۔وَلَا تَعْدُ عَيْنُكَ عَنْهُمْ اور تیری آنکھیں ان سے ہٹ کر دوسری طرف نہ دیکھیں۔یعنی صبر کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ تجھے کافی ہوں اور یہ نہ ہو کہ اچھوں کی صحبت میں کچھ دیر دل لگے بھی لیکن نظر یہ رہے کہ کب یہ صحبت ختم ہو تو ہم اس صحبت میں واپس لوٹ جائیں۔یا ہمیشہ دل للچایار ہے کہ وہ بھی تو چیزیں ہیں ان کی طرف بھی تو جانا چاہیئے کچھ ان میں سے بھی دیکھ لیا جائے۔فرمایا یہ بس ہوں تمہارے لئے ، یہ تمہاری کائنات بن جائیں، تمہارا سب کچھ یہی ہو جائیں اور تمہاری ساری لڈ تیں اپنی تسکین ان لوگوں کی صحبت میں پالیں۔چنانچہ فرمایا تیری دونوں آنکھیں ان سے ہٹ کر پرے دیکھنے کی کوشش ہی نہ کریں، خیال تک نہ ان کو آئے کہ اس سے پرے بھی کوئی دنیا بستی ہے اور